سکردو(تحریر نیوز نیٹ ورک) ایس ایس پی سکردو راجہ مرزا حسن سے اپنے دفتر میں میڈیا کے نمائندوں کے بات کرتے ہوئے کواردو ریپ کیس کے حوالے سے تفصیلات سے اگاہ کیا۔ اُنہوں کہا کہ جب سے سوشل میڈیا پھر سوشل میڈیا کی خبر کو اخبارات کی زینت بننے کے بعد پولیس نے اس معاملے کی نہایت ہی باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے کواردو جاکر فریقین سے بھی خصوصی ملاقات کی اور لڑکی کی والدین نے پولیس کو بتایا کہ اس معاملےمیں کوئی حقیقت نہیں ہے لڑکی کے ساتھ کوئی ذیادتی نہیں ہوئی ہے جبکہ لڑکے کے والدین پہلے ہی اس بات سے انکار کرتے رہے ہیں۔ اُنکا کہنا تھا کہ میڈیکل چیک اپ میں بھی لڑکی کے ساتھ ریپ کا کوئی ثبوت نہیں ملا لیکن ملزم ابھی بھی گرفتار ہیں اور اس حوالے سے مزید چھان بین جاری ہیں جس پر قانون کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ پولیس نے اس حوالے سے منفی خبر چلانے والوں اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کرنے والوں کے کاروائی کا فیصلہ کیا ہے اور بہت جلد اس قسم کی غلط خبر سوشل میڈیا پر ڈالنے والے قانون کے سکنجے میں ہوں گے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا