شگر(عابدشگری)نواسہ رسول جگر گوشہ بتول امام حسین اور شہدائے کربلاء کے لازوال قربانیوں کو یاد کرنے کیلئے ملک بھر کی طرح ضلع شگر میں عاشورہ محرم عقیدت و احترام سے منایا گیا۔ ضلع بھر کے 100 سے زائدمقامات سے علم شبیہ تابوت اور شبیہ ذوالجناح کے جلوس نکالے گئے۔جس میں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی ۔ عزاداروں نے امام حسین اور ان کے جانثار ساتھیوں کی مظلومانہ شہادت کو یاد کرتے ہوئے انہیں پرسہ دینے کیلئے نوحہ خوانی اور سینہ ذنی کئے۔ شگر سنٹر میں مرکزی جلوس امام بارگاہ حسینیہ مرہ پی،امام بارگاہ بیاسنگ،امام بارگاہ غظواپہ ،امام بارگاہ آگے پہ،امام بارگاہ آستانہ اور مسجد بھہبھانیہ خسرگڑونگ سے برآمد ہوا۔ جبکہ مرکزی امام بارگاہ حسینیہ ؑ حسینی محلہ ہلپاپہ مرکنجہ سے تابوت ،علم،ذوالجناح اور ڈولی زینب ؑ کا قدیمی جلوس برآمد ہوا۔ جوکہ مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا خانقاہ معلی پہنچا جہاں دیگر جلوس بھی اس میں شامل ہوئے۔۔ مرہ پی ،بیاسنگ اور غضواپہ سے برآمد ہونے جلوس شاہی پولوگو گرائونڈ پہنچ کر نماز جمعہ اداکی۔معروف عالم دین شیخ محمد باقر مجلسی نے نماز جمعہ پڑھائی۔جہاں نماز جمعہ کی خطبے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے امام عالی مقام کی مظلومیت اور فلسفہ شہادت پر روشنی ڈالی اور عزاداروں پر زور دیا کہ وہ صرف مجلس تک محدود رہنے کے بجائے عزاداری کی حقیقت کو سمجھیں اور عملی زندگی میں واقعہ کربلاء کی حقائق کو سمھنے کی کوشش کریں۔ ۔ جہاں سے جلوس دوبارہ اپنے منزل کی جانب روانا ہوئے۔ جلوس کے راستوں عزادوں کیلئے جگہ جگہ دودھ اور شربت کی سبیلیں لگائی ہوئی تھی۔جبکہ لنگر حسینی ؑ کا بھی مومنین کی جانب سے اہتمام کیا گیا تھا۔ اس موقع سکیورٹی کے خاطر خواہ اقدامات کئے گئے تھے۔ جلوس کے تمام راستوں کو سیل کرکے بند کردیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر شگر ذاکر حسین،ایس پی ضیاء اللہ اوراسسٹنٹ کمشنر شگر زین العابدین میرانی جلوس کی نگرانی خود کررہے تھے۔پولیس کیساتھ شگر بوائز سکائوٹس بھی سکیورٹی کے فرائض سنبھال رہے تھے۔محکمہ صحت اور وحدت فائونڈیشن کی جانب سے حسن شہید چوک پر فیلڈ ہسپتال قائم کردیا گیا تھا جہاں زخمی عزادروں کی مرہم پٹی کیا گیا۔شگر ضلع میں چھورکاہ،ہشوپی، الچوڑی،یونو،کشمل،تسر ،گلاب پور ،وزیرپور،چھوترون،نیاسلو،ڈوکو،بیسل،ارندو، سیسکو،بین،ڈیمل،تھورگو،داسو،نید، بیانگسہ، گمبہ برالدو،گونگمہ برالدو ،چونگو،اسکولی،سینو اور کورفے سے بھی ماتمی جلوس برآمد ہوئے۔تمام جلوس شام کو پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگئے جہاں مغرب کے بعد شام غریبان کی مجلس برپا کی گئی۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا