اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت نے پاکستان دشمنی میں تمام حدیں عبور کرتے ہوئے بھاشا ڈیم کی تعمیر کے خلاف یو این او میں درخواست دینے کی تیاریاں کر لی ہیں۔،اس درخواست میں یہ موقف اختیار کیا جائے گا کہ ڈیم کے متاثرین نے بھارت سے رابطہ کیا ہے کہ اس ڈیم کے بننے سے ان کو نقصان ہو گا ا س لیے اس ڈیم کو رکوانے میں ہماری مدد کی جائے ۔
میڈیاذرائع کے مطابق بھاشا ڈیم کے خلاف یو این او میں درخواست دینے کے حوالے سے بھارت کا ہوم ورک مکمل ہو چکا ہے ۔پاکستان کے اندر کن کن قوتوں کی سپورٹ حاصل کرنی ہے ، کن کن سیاسی علاقائی جماعتوں کے وکررز اس ڈیم کے خلاف باہر نکلیں گے اور کس طریقہ سے اس کو متنازعہ بنایا جائے گا تا کہ یو این او میں جو قرارداد پیش کی جائے اس کو درست ثابت کیا جا سکے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بھارت کی ٹیم نے سفارتی سطح پر بھی اس حوالے سے کام شروع کر رکھا ہے اورپاکستان مخالف ممالک کو اس پر اعتماد میں لے کر عالمی پریشر بنانے کا کام پر بھی عمل شروع کر دیا ہے ۔
با وثوق ذرائع کا کہنا ہے پاکستان میں ڈیمز کی مخالفت کرنے والے مختلف گروہ کو بھاری فنڈنگ بھی کی گئی ہے اور سنگاپور کے اندر اس حوالے سے ایک اجلاس بھی ہو چکا ہے جس میں پاکستان سے کچھ افراد کو بھی بلایا گیا تھا اور ان کو بھی بھاشا ڈیم کو متنازعہ بنانے کے حوالے سے ٹارگٹ دیا گیا ہے ۔ بھاشا ڈیم میں آنے والا بہت سے رقبے کے حوالے سے بھی بہت سے افراد کو بھارت کی آشیر واد سے تیار کیا گیا ہے کہ وہ عالمی عدالت یو این میں خود بھی درخواستیں دیں اور ان تمام چیزوں کی پشت پر بھی بھارت کھڑا ہو گا ۔
دوسری جانب پاکستان نے بھی سفارتی سطح پر اس سازش سے نمٹنے کے لیے تیاری شروع کر دی ہے ۔ سیاسی مبصرین اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کبھی بھی پاکستان کو ترقی کرتے اور اپنے مسائل کو حل کرتےہوئے نہیں دیکھ سکتا، یہی وجہ ہے کہ بھارت اب اس طرح کے حربے آزمانا شروع ہو گیا ہے۔
New post (بھارت پاکستان دشمنی میں تمام حدیں پار کر گیا ,بھاشا ڈیم کی تعمیر کے خلاف یو این او میں درخواست دینے کی تیاریاں کر لیں) has been published on World Fast News 4 U – https://t.co/Wi7MtMna1n pic.twitter.com/eatU5XsQBJ
— World Fast News 4u (@WorldFastNews4U) September 19, 2018
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا