ضلع نگر کے جنگلات سے عمارتی تعمیرات کیلئے لکڑی لانے کی ممانعت سے عوام کو شدید مشکلات درپیش۔

0 0

نگر ( اقبال راجوا) ضلع نگر میں عمارتی لکڑی لانے کی ممانعت سے عوام کو شدید پریشانی ،چھلت چھپروٹ قدرتی جنگلات جو کہ گلگت بلتستان میں پانچویں بڑے قدرتی جنگلات اور دیگر چھوٹے چھوٹے جنگلات کے کٹائی میں بھی بے دریغ اضافہ ہو سکتا ہے، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم جب ضلع گلگت سے چوکھاٹ ،کھڑکیاں ،دروازے بنوا کر لاتے ہیں تو چھنس بیرئیر چک پوسٹ پر ر وک کر منشیات سمگلروں اور مجرموں سے بھی بد تر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے ۔نگر کے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فضول اور غیرضروری اور غیر قانونی اقدامات سے نہ تو کسی بھی جنگل کی کٹائی رکنی ہے اور نہ ہی قیمتی لکڑی کی گیر اسمگلنگ رکنا ہے ۔ خوا ہ مخواہ ہی عوام کو چھنس بیرئیر پر تنگ کرنے کے لئے چوکھاٹ ،دروازے اور دیگر ضروریات کی عمارتی لکڑی کو روک کر اتروایا جا رہا ہے اور مجرموں جیسا روئیہ رکھا جاتا ہے ۔ قانون کے لحاظ سے اس قسم کی اشیاء جو کاٹ پھوٹ کے بعد اپنی ضرورت کی شکل میں بدل کر کھڑکی چوکھاٹ یا کوئی اور شکل میں تیار کر کے گھر لائی جاتی ہے کو روکنا کسی بھی طرح ناجائز ہونا چاہیئے ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بلا جواز روک تھام سے گلگت بلتستان کے پانچویں بڑے جنگلات اور ہنزہ نگر میں س ب سے بڑے قدرتی جنگلات میں غیر قانونی کٹائو میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے ۔ کیوں کہ عوام کا کہنا ہے کہ ہم اپنی ضرورت آخر کہاں سے پیدا کریں اگر اس طرح کی فضول قسم کی پابندیاں عائد کر کے چھنس بیرئیر پر تعینات فارسٹ اہلکاروں کو عوام تنگ کرنے کی زمہ داریاں لگا دی جائیں تو عوام آخر کیا کریں ظاہر انہوں نے جنگل کٹائو مافیا سے مقامی طور پر لکڑی حاصل کرنے کے لئے رجوع کرنا پڑیگا،۔ عوامی حلقوں کا مذید کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات صرف چھنس بیرئیر ضلع نگر کی چوکی پر ہوتا ہے باقی دیگر اضلاع میں اس طرح کا کوئی غیر ضروری اور غیر قانونی پابندی نہیں ہے ۔ ہم سیکریٹری جنگلات اوار ڈی ایف او نگر اس مسئلے کو حل کرتے ہوئے ضلع نگر میں لائی جانے والی کسی بھی لکڑی پر سے پابندی ختم کریں تا کہ لوگ اپنی ضروریات پوری کر سکیں اور ضلع ہنزہ نگر میں بڑے جنگلات اور مختلف علاقوں میں موجود چھوٹے جنگلات میں غیر قانونی کٹائو بھی نہ ہو سکے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website