چلاس(پ،ر) گزشتہ دنوں بنگہ نالہ گیس ضلع دیامرسے تعلق رکھنے والا وزیر ولد جرمن کے حوالے سے ایک خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا جس کے مطابق 300بکریوں کے مالک اس چرواہے کو مقامی ٹھگوں نے مویشیوں کا ٹھیکدار ظاہر کر کے چرواہےکی سادگی سے فائدہ اٹھاتے ہوے دس کنال مزروعہ زمین کا جھانسہ دیکر ایک سو چالیس بکریاں چار مویشی اٹھا لیا اور وزیر اور اس کے خاندان کو ایک ٹرک میں لوڈ کر کے دیامر سے ضلع غذر لایا جہاں پہلے سے مکان کرایہ پر لیا ہوا تھا اس میں منتقل کیا اور ساتھ میں ایک بڑا پلاٹ بھی ان کو دیکھایا گیا پلاٹ کا مالک کوئی اور تھا لیکن بلور خان نے پلاٹ کو اپنی ذاتی ملکیت ظاہر کر کے عارضی طور پر قبضہ بھی دے دیا۔ بعدمیں اُس پلاٹ کا اصل مالک کوئی اور نکلا اور جس مکان میں رہائش دیا گیا تھا اس کا مالک بھی سامنے آیا ایسی دوران بلور خان اور اس کے ساتھی بکریوں کو ٹھکانہ لگا کر رفو چکر ہوگئے۔
اس غریب چرواہے کے ساتھ تاریخی فراڈ کرنے والے ابھی تک قانون کے گرفت سے دور ہے اور اس غریب چرواہے کا کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ گلگت بلتستان میں قانون صرف امیروں کی تحفظ کیلئے بنایا گیا ہے۔حکومت کو چاہئے کہ اس غریب چرواہے کی دادرسی کریں اور فراڈ کرنے والوں کی گرفتاری کو یقینی بنائیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا