سکردو( پ،ر)پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے صوبائی ڈپٹی کنوینر سید محمد عباس کاظمی نے اس خبر پر کہ مولانا فضل الرحمٰن کے کشمیر کمیٹی سے فارغ ہونے کے بعد کراچی کے ایک غیر متوازن ذہنیت کے مالک اور مسخراڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو اس عہدے پر فائز کرنے پر سوچ بچارہورہا ہے پر تبصرہ کرتے ہوے کہا کہ ماضی میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے حکومتوں نے وفاق کے کئی اہم وزارت اور عہدوں کو سیاسی رشوت اور اپنے دوستوں کو نوازنے کے لئے مختص کیا جن پر ان لوگوں کو فائز کیا گیا جنہیں ان وزارت اور اداروں کے اغراض و مقاصد کا نہ کچھ علم تھا اور نہ انہیں کوئی دلچسپی تھی ۔جس سے کشمیر کاز کو اندرونی اور بیرونی طور پر شدید نقصان پہنچا۔ان میں وفاقی وزارت امور کشمیر و شمالی علاقہ جات ‘ وفاقی وزیر سیاحت اور سربراہ پاکستان ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور کشمیر کمیٹی کی چیرمین شپ سر فہرست ہیں۔گلگت بلتستان میں جو کچھ بھی کرپشن ‘ فرقہ وارانہ نفرت و دشمنی اور قانون ساز اسمبلی کو چند کرپٹ سیاستدانوں کا شو روم بنا کر رکھنا اور اس خطہ میں سیاسی بے چینی اور نا امیدیاں جن کے رد عمل کے نتیجے میں یہاں منفی سوچ کے قوم پرست سیاسی پارٹیوں اور انجمنوں کا وجود ان سب کی وجوہات وزارت امور کشمیرکے آمرانہ اور متعصبانہ پالیسیوں کی وجہ سے ہے ۔ وزارت امور کشمیر و شمالی علاقہ جات سے گلگت بلتستان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ یہاں کا سارا سیاسی ‘ مذہبی اورمعاشرتی ماحول تباہ ہوا۔اسی طرح کشمیر کمیٹی اور اس کا چیر مین اپنے اپنے دورمیں عیاشی کا گڑھ اور حکومتوں کے سیاسی دلال بنے رہے ۔ انہوں نے آج تک متنازعہ ریاست کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے یا مقبوضہ کشمیر کے باشندوں کے خلاف بھارتی افواج کی بدترین ظلم و تشدد پر اپنی پوری طاقت سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کبھی کوئی آواز نہیں اٹھائی ۔اس کمیٹی نے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں پچھلے ستر سالوں سے مقبوضہ کشمیر سے بھارتیوں کے ظلم و ستم سے جان بچا کرآزاد حصے میں آنے والے مہاجرین کی آباد کاری ‘ ان کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی کام نہیں کیا۔اس کی وجہ ایک تو یہ تھی کہ ان کا متنازعہ ریاست کشمیر سے نہ تو خونی رشتہ تھا اور نہ ان کے عزیز اس ریاست کے باشندے تھے۔لہذا انہیں مسئلہ کشمیر اور اس ریاست کے مظلومیں اور مہاجرین سے کوئی ہمدردی نہیں تھی ۔ عامر لیاقت حسین ہو یا کوئی اور فرد جس کا ریاست کشمیر سے کوئی رشتہ کوئی تعلق نہیںہو اسے کشمیر کمیٹی کا چیرمین منتخب کرنا اسی منفی اور کرپٹ پالیسی کا تسلسل ہوگا جسے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے پروان چڑھا یا تھا اور یہ مسئلہ کشمیر اور اس ریاست کے ازاد حصہ کے محروم عوام کے ساتھ بڑی زیادتی ہوگی۔عباس کاظی نے وزیر اعظم پاکستان سے اپیل کی ہے کہ خدا را اب گلگت بلتستان کے عوام پر رحم کریں ۔حکومت پاکستان نے شروع آزادی سے ہی آزاد کشمیر کے عوام کو ایک حکومت خود اختیاری دے کر انہیں ایک بہتر ماحول اورعزت دی ہے لیکن گلگت بلتستان کے عوام کو اتنی قربانیوں کے باوجود نہ تو انہیں پاکستانی شہریت کے حقوق دئے گئے اور نہ آزاد کشمیر کی طرح انہیں ایک آزاد ریاست کی شکل دی بلکہ اس انتہائی اہم لیکن بدنصیب علاقے کے عوام کو عالم برزخ میں رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے عوام ذہنی طور پر فرسٹریشن کا شکار ہوے ہیں اور پاکستان کے بارے میں منفی خیالات نے جنم لینا شروع کیا ہے ۔ لہذا انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اب کی دفعہ ریاست کشمیر کے اس بدقسمت علاقہ سے جنہوں نے اپنے زور بازو پر اپنے مادر وطن کو آزاد کرکے پاکستان کو پیش کردیا تھا سے کشمیر کمیٹی کے چیرمینی کے لئے کسی ایسے شخص کو لیا جائے جس کا تعلق اسی ریاست سے ہو ‘ جس کے دل میں اس ریاست کے متاثرین اور مہاجرین کے لئے کام کرنے کا جذبہ موجود ہو۔ عباس کاظمی نے اس سلسلے میں جناب عمران خان صاحب وزیر اعظم پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ اب کی بار اس فرائض کی بجا آوری کے لئے بلتستان سے کسی ایسے شخص کو لیا جائے جو ریاست کشمیر کی سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفیکیٹ درجہ اول کا حامل ہو اورجسے مسئلہ کشمیر کے ہر پہلو پر عبور حاصل ہواور وہ ریاست کے مقبوضہ حصے میں مظلوم بھائیوں کے بارے میں آواز اٹھانے اور اور آزاد حصوں میں بے سہارا کشمیری مہاجرین کی آباد کاری اور بہبود کے لئے کا کرنے کا جذبہ رکھتا ہو۔امید ہے جناب عمران خان صاحب ہماری اس اپیل پر غور کریں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما نےکشمیر کمیٹی کا چیرمین گلگت بلتستان کے کسی فرد کو بنانے کا مطالبہ کردیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا