لاہور(نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں صوبائی کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بلدیاتی نظام کو فوری تبدیل کرنے کی ہدایت کردی جبکہ پنجاب میں قبضہ مافیا اور تجاوزات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب کو قبضہ مافیا اور تجاوزات کے خلاف سخت ایکشن لینے کا حکم دیدیا، عمران خان نے کابینہ کے اراکین کو سادگی اپنانے کی بھی ہدایت کی ،وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے درمیان ملاقات میں صوبے کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی ۔ وزیراعظم عمران خا ن لاہور کے دورہ کے دورا ن کلب روڈ پر ایوان وزیر اعلی پہنچے جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی کابینہ کے وزراءنے ان کا استقبال کیا جسکے بعد وزیر اعظم کی وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے بھی انکے دفتر مےں ملاقات ہوئی ۔ وزیر اعظم نے پنجاب کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی جس سے خطاب کے دوران حکم دیا کہ 100 دن کے منصوبے پر عمل درآمد تیزی سے جاری رکھا جائے اور صحت، تعلیم اور صاف پانی کی فراہمی کے شعبوں میں تبدیلی نظر آنی چاہئے کابینہ کے کندھوں پر بھاری زمہ داری ہے‘پنجاب حکومت کو باقی صوبوں کےلیے مثال بنا ہوگا‘صوبے میں کرپشن کا خاتمہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کا پہلا فرض کرپشن کی نشاندہی اور اس کے خلاف ایکشن لینا ہے‘میں پنجاب میں اکثر آتا رہوں گا، اور سو دن کے پلان پر عمل درآمد کی خود نگرانی کروں گا۔ ذرائع کے مطابق عمران خان نے اورنج لائن منصوبے کا فوری آڈٹ کروانے اور پنجاب میں بلدیاتی نظام کو فوری تبدیل کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام وزرا اپنے اپنے محکموں میں سادگی کو فروغ دیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آبادی کے لحاظ سے بڑے صوبے کے وزراءپر بھاری ذمہ داری ہے، پنجاب حکومت کی کارکردگی باقی صوبوں کےلئے قابل تقلید مثال ہونی چاہیے، بدعنوانی کا خاتمہ پنجاب میں سب سے بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ ارکان بدعنوانی کی نشاندہی اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کاروائی کریں، قبضہ گروپوں اور مافیا کے خلاف فوری کاروائی شروع کی جائے۔ عمران خان نے کہا کہ فاقی حکومت بدعنوان عناصر کے خلاف مکمل تعاون فراہم کرے گی، انسانی وسائل کی ترقی پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے، پاکستان میں انسانی وسائل کی ترقی خطے میں سب سے کم درجے پر ہے،100 دن کے ایجنڈے پر عمل درآمد کےلئے صوبوں کا تسلسل سے دورہ کروں گا۔
وزیراعظم عمران خان نے صوبہ پنجاب میں تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف سخت ایکشن کا حکم دے دیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا