اسلام آباد( نامہ نگار خصوصی) دیامر بھاشا ڈیم کے معاوضوں کی تقسیم اور متاثرین کی آباد کاری کے حوالے سے کرپشن کے انکشاف پر چیف جسٹس آف پاکستان نے نوٹس لیتے ہوئے اس حوالے سے تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہوا ہے جو کہ عنقریب گلگت بلتستان تک وسیع کی جائے گی۔پاکستان مسلم لیگ نون گلگت بلتستان کے اندرونی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے سابق سیکرٹیری سبطین احمد جنکے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ دو سال کی ٹریننگ کیلئے بیرون ملک جارہے ہیں ۔ سبطین احمد پر دیامر بھاشا ڈیم کے معاوضوں اور آباد کاری کے معاملات میں اربوں کے کرپشن کا الزام ہے اور دیامر کے عوام اُن کے خلاف کئی بار احتجاج بھی کرچُکے ہیں اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے دیامر کے عوام سے وعدہ بھی کیا ہوا ہے کہ اس حوالے سے عوام کے خدشات کو دور کیا جائے گا۔
ذرائع مسلم لیگ نون کا کہنا ہے کہ سبطین احمد دراصل ٹرنینگ کیلئے نہیں بلکہ اُنہیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بیرون ملک فرار کرایا جارہا ہےتاکہ دیامر بھاشا ڈیم کے معاوضوں کی تقسیم اور آباد کاری میں کرپشن کی تحقیقات سے بچ سکے۔ اُن پر الزام ہے کہ اُنہوں نے دیامر بھاشا ڈیم کے معاوضوں کی تقسیم سمیت کئی معاملات میں خردبرد کیلئے فرنٹ مین کا کردار ادا کیا ہے اور اس کرپشن میں کئی اہم حکومتی عہدے دار بھی ملوث ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ اُن کے حوالے سے پہلے یہ خبر بھی میڈیا کی زینت بن چُکی ہے کہ اُنہوں نے چھمو گڑ کے مقام پر 1500 کنال کے قریب زمینوں پر قبضہ کرکے اُس زمین کیلئے سرکاری فنڈ سے خصوصی طور پر آرسی سی پُل بھی بنوایا ہے۔
اس حوالے سے آج پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر زمان کا ویڈیو پیغام بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے جس میںاُنہوں نے بغیر نام لئے دیامر بھاشا ڈیم کے معاوضوں کی خردبرد میں ملوث عناصر کو بیرون ملک جانے سے روکنے کیلئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔
قومی احتساب بیورو کو چاہئے کہ اس معاملے کی چھان بین کریں اور اگر واقعی میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے سابق سکرٹیری نے دیامر بھاشا ڈیم کے معاوضوں کی تقسیم میں کرپشن کیا ہے تو اس حوالے سے چھان بین کریں کیونکہ مسلم لیگ نون کے اندر سے اس طرح کی خبریں لیک ہونے کا مطلب معاملہ گھمبیر ضرور ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا