گلگت ( نامہ نگار خصوصی) باخبر ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان میں قومی حقوق کیلئے بڑھتے ہوئے عوامی شعور اور روایتی صوبے کی مطالبے کو عوام کیطرف سے مسترد کرکے یو۔این۔آو کی قرارداوں کے مطابق داخلی خودمختاری کے مطالبے نے عوام میں خاطر خواہ مقبولیت حاصل کرلی ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے 71 سالوں سے گلگت بلتستان کے قومی حقوق کو نظر انداز کئے جانے پر صوبے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کے موقف بھی بدلتے جارہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں عرصہ دارز سے عوام میں حکمرانی کرنے والی وفاقی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے نئے صوبائی صدر نے بھی پرانے مطالبے کو مسترد کرکے متنازعہ حیثیت کی بحالی اور اسکو قانونی تحفظ دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔ جبکہ صوبے کا مطالبہ کرنے والی اور سابق حکمران مذہبی کالعدم تحریک جعفریہ اور موجودہ اسلامی تحریک کے اسمبلی میں آپوزیشن لیڈر نے بھی آرڈر 2018کے خلاف ہونے والے عوامی آحتجاجات میں برملا کشمیر طرز کے سیٹ آپ کا مطالبہ کردیا ہے۔ جبکہ دیگر مذہبی جماعتیں جن میں جماعت اسلامی جمعیت علمائے اسلام پہلے سے آزاد کشمیر طرز کے سیٹ آپ کا مطالبہ کرتی آرہی تھی۔ گلگت بلتستان کے عوام کا قومی حقوق کیلئے روایتی مطالبےسے دستبردار ہونے پر مقتدر طاقتیں خائف نظر آرہی ہیں۔ذرائع کا یہ کہنا تھاکہ حقائق پر مبنی عوامی نئے مطالبے کے بعد کالونیل نظام کو ارباب اختیارطبقہ اپنے لئے خطرہ محسوس کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کچھ طاقتیں عوام کے اندر قومی حقوق کے لئے یکساں بیداری پیدا ہونے سے سر جوڑ کر بیٹھ گئی ہیں۔ اور وہ طاقتیں بلوچستان طرز کی ایک قومی جماعت بنا کراپنا بنایا گیا منشور دے کر گلگت بلتستان کے عوام کو قومی حقوق کے لئے یکجا موقف ا پنانے کے راستے سے منحرف کرنا چاہتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان میں 2020 کو ہونے والے انتخابات سے قبل گلگت بلتستان کی قومی جماعت کا قائم عمل میں لایا جارہا ہے۔
گلگت بلتستان میں قومی جماعت کی تشکیل کیلئے مقتدر قوتیں سرگرم،وجہ ناقابل یقین۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا