گلگت (چیف رپورٹر)گلگت بلتستان کے عوام جب مشترکہ جدوجہد پر آمادہ ہوتے ہیں اس طرح کے بیانات اور واقعات کے ذریعے دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے گلگت بلتستان کے عوام کو راء اور ٹی ٹی پی سے جوڈنا نہایت ہی مذموم سازش کا پیش خیمہ ہے گلگت بلتستان کے اندر گزشتہ دنوں پیش آنے والے واقعات کے بعد دیامر کے عوام اور جرگہ کا کردار قابل تعریف ہے دیامر کے عوام اور عمائدین نے حکومت کے ساتھ مکمل طور پر تعاون کرکے حقیقی معنوں میں امن پسندی کا ثبوت دیا ہے اور ساتھ ہی نامزد افراد کو سکیورٹی اداروں کے حوالے کرنا کامیابی کی واضح دلیل ہے۔اب حکومت کی ذمداری بنتی ہے کہ دیامر گرینڈ جرگہ کے ساتھ مکمل طور پر تعاون کرکے حوصلہ افزائی کرے۔ان خیالات کا اظہار مولانا سلطان رئیس چئیرمین عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے بیان میں کیا انہوں نے مزید کہا کہ آرڈر 2018 پر عملدرآمد چند خفیہ عناصر کا ذاتی ایجنڈا ہے جس کے تحت سپریم کوٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کو حرکت میں لایا گیا جبکہ دنیا کے کسی دستور میں نہیں دیکھا گیا کہ ایک خطے میں دو سپریم کورٹ ہوتے ہوں لہذا فیصلہ کیا جائے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا دائرہ اختیار گلگت بلتستان تک ہے تو سپریم اپیلٹ کورٹ کا خاتمہ کیا جائے اور اگر سپریم اپیلٹ کورٹ کے صورت میں سپریم کوٹ آف پاکستان کے دائرہ کار کو متعین کیا جائے انہوں مذید کہا کہ وکلاء ایکشن کمیٹی کے جانب سے قومی بیانیہ کی تحریک کی کوشش کو سراہتے ہوئے اتفاق رائے کی صورت میں مکمل طور پر تعاون کریں گے۔
سازش کے تحت گلگت بلتستان میں حالت خراب کرایا جارہا ہے، امجد شعیب کی ہرزہ سرائی سکیورٹی اداروں پر سوالیہ نشان ہے ۔ مولانا سلطان رئیس
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا