سکردو(پریس ریلیز)گلگت بلتستان میں سیاسی رہنمائوں اور عام شہریوں پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت شیدول فور کا استعمال انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزی ہے، گو کہ گلگت بلتستان متنازعہ ہونے اور کسی ملک کی آئین میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر کالا دائرہ ( Black Hole)کہلاتا ہے اور اس کالے دائرے میں رہنے والوں پر کالے قوانین(Black Laws) کا اطلاق آئین پاکستان اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔ گلگت بلتستان سے شیڈول فور کا کالا قانون فوری طور پر ختم کرتے ہوئے یہاں کے عوام کو جینے کی آزادی دی جائے ، ان خیالات کا اظہار گلگت بلتستان یونائیٹڈ موئومنٹ کے چئرمین منظور پروانہ نے کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام آزادانہ حق رائے دہی کے ذریعے نیا پاکستان (New Pakistan)بنا رہی ہے جبکہ گلگت بلتستان کے عوام پر کالے قوانین لاگو کر کے خطے کو کالا گلگت بلتستان ( Black Gilgit Baltistan)بنایا جا رہا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام پر اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کو جرم بنا دیا گیا ہے ، یہاں ظلم و ستم ، نا انصافی اور زیادتی پر فریاد کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ، اگر گلگت بلتستان کے عوام یہاں کے وسائل اور حکومت پاکستان کے درمیان رکاوٹ ہے تو یہاں کے حق پرست قائدین اور سیاسی کارکنوںکویک ہی دفعہ مار دیا جائے تاکہ یہاں ظلم و بربریت پر آواز اٹھانے اور حقوق کے لئے جد و جہد کرنے والا کوئی بھی باقی نہ رہے۔منظور پروانہ نے کہا کہ چند سرکاری ملازمین نے اپنی نوکری پکا کرنے اور ترقی پانے کی ہوس میں ہمیں شیڈول فور میں ڈالنے کے لئے غلط رپورٹنگ کی ہیں ایسے افراد پیشہ وارانہ بد دیانتی کے مرتکب ہو رہے ہیں ان کے خلاف قانونی کاروائی ہونی چائیے ۔ شیڈول فورگلگت بلتستان کے چند سیاسی رہنمائوں اور کارکنوںکے خلاف انتقامی و انتظامی کاروائی نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش ہے، اگر آج 140 افراد پر شیڈول فور لگایا گیا ہے تو کل گلگت بلتستان کی دو ملین عوام کا نام شیڈول فور میں ہوگا۔ گلگت بلتستان کے عوام کو اس کالے قانون کو گلگت بلتستان سے ختم کروانے کے لئے آگے آنا ہوگا۔
گلگت بلتستان میں سیاسی رہنماوں اور عام شہریوں پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت فورتھ شیدول کا استعمال انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزی ہے۔ منظور حسین پروانہ
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا