وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن اور سابق وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کے درمیان اہم ملاقات اور انکشافات۔

0 0

اسلام آباد( نامہ نگار خصوصی) اسلام آباد میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کے موسم میں بھی تبدیلیاں آنا شروع ہوگئی۔ پچھلے تین سال سے ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے والے سابق اور موجودہ وزراء اعلیٰ نے ایک دوسرے سے ملاقات کرکے گلے شکوے دورکرلئے ۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے سابق وزیر اعلیٰ سے ممکنہ عدم اعتماد تحریک میںپاکستان پیپلزپارٹی سے خصوصی تعاون کی درخواست کی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن 2018 سے پہلے سابق وزیر اعلیٰ مہدی شاہ بھی اس امید سے تھے کہ اس بار وفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہوگی اور ایسے اگلی بار گلگت بلتستان میں اُنہیں حکومت بنانے کیلئے راہ ہموار ہوگا یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے اپنے بیٹے کی بھی سیاست کے دنگل میں اُتارنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے سے اُن کے اندر بھی بڑی پے چینی پایا جاتا ہے دوسری طرف نیب نے بھی گلگت بلتستان میں اپنا ٹھکانہ جمایاہوا ہے اور سید مہدی شاہ سمیت سابق حکومت کے کئی اہم وزراء اس وقت نیب کے ذد میں ہیں۔ دوسری طرف گلگت بلتستان میں مسلم لیگ نون کی حکومت اس وقت ایک طرح سے یتیم ہوگئی ہے یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ بھی اپنی حکومت پر گرفت رکھنے میں کمزور نظر آتا ہے۔ وزیر اعلیٰ حفیظ کی جانب سے گزشتہ روز اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے خلاف بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں بغیر کسی ضرورت کے شرکت پر بھی سوال اُٹھایا اجارہا ہے اُنکا خیال ہے کہ عمران خان کو کام کرنے نہیں دیا جائے گا لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں، ان تمام صورت حال کے بعد بالآخر حفیظ الرحمن نے سید مہدی شاہ سے ہاتھ ملانے کا فیصلہ کیا ہے جسکا اصل مقصد دو سال کی حکومت کو پچایا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ حفیظ نے اپنی دوسالہ حکومت بچانے کیلئے گلگت بلتستان کیلئے کشمیر طرز کے سیٹ کے وفاقی آفر کو بھی مسترد کیا تھا ۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website