اسلام آباد (مانیٹرنگڈیسک) عمران خان نے انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے بعد آج پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنی حکومت کا ایجنڈا پیش کیا ہے۔ عمران خان نے اس موقع پر خارجہ پالیسی کا بھی ذکر کیا۔ عمران خان نے پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کی ترجیح ہو گی کہ وہ امریکہ کے ساتھ دو طرفہ مفادات پر مبنی سنجیدہ اور باوقار تعلقات قائم کر یں۔امریکہ کی یہ سوچ ہے کہ پاکستان اس سے امداد حاصل کرتا ہے اس لئے وہ اس پرایسے کاموں کیلئے دبائو ڈالتا ہے جو کہ پاکستان کے مفادات کے خلاف ہوتے ہیں۔ عمران خان نے اس موقع پر بھارت کے ساتھ تعلقات کا بھی ذکر کرتے ہوئے بھارت کو باقاعدہ مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اگر پاکستان کی طرف دوستی کا ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو قدم اس کی جانب بڑھیں گے مگر یکطرفہ طور پر کسی قسم کی پیش رفت ہونا ممکن نہیں۔ عمران خان نے اپنی پریس کانفرنس میں چین کے ذکر نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے سی پیک کے حوالے سے اپنی حکومت کی ترجیحات کا کوئی ذکر کیا ہے جبکہ ایران کے حوالے سے پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ ایران کیساتھ تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے سعودی عرب اور عرب ممالک کے ساتھ تعلقات اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور عرب ممالک کیساتھ پاکستان کے تعلقات اہمیت کے حامل ہیں جنہیں مزید مضبوط بنایا جائے گا جبکہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں مثبت اور ثالث کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔
تاریخی کامیابی کے بعد کپتان کا قوم سے پہلا خطاب، پانچ سالہ ایجنڈا عوام کے سامنے رکھ دیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا