کھرمنگ( قاسم قاسمی) کھرمنگ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے منٹھوکھا اور مادھوپور ضلع کھرمنگ کے اطراف سے ندی کنارے قدیم لنک روڈ کو بغیر کسی معاوضے کے 6 فٹ مزید چوڑا کرنے کیلئے زبردستی کیا جارہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی خواہش ہے کہ منٹھوکھا آبشار تک ندی کے دونوں طرف کے قدیم سڑک کواز سر نو تعمیر کیا جائے گا۔ کہا یہ جارہا ہے اس حوالے سے حسین زمبہ جو پہلے ہی کرپشن کا شکار ہوکر اب آثار بھی ختم ہوچُکے ہیں ،کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا اور اطراف کے قدیم سڑک کو جو گزشتہ دہائیوں سے خراب پڑی ہے کو مزید کشادہ کیا جائے گا جس کیلئے علاقے کے ایک بااثر شخص کی طرف سے سیاسی سفارش کی گئی ہے۔ اس سڑک کی توسیعکیلئے عوامی املاک عوامی املاک استعمال ہونگے لیکن خالصہ سرکار کے کھاتے میں کوئی معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔ اہل علاقہ میں اس حوالے سے شدید تشویش پایا جاتا ہے ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ نالے کی طرف نہ ہی کوئی گنجان آبادی ہے نہ ہی اوپر نالے میں کوئی تجارتی مرکز ہے اور نہ ہی اس نالے میں کوئی فوجی اڈہ وغیرہ ہے لہذا اس لنک روڈ کی توسیع کا مطلب انفرادی فائدے کیلئے عوامی املاک کے نقصان پونچانا ہے جسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ آبشار تک جانے کیلئے موجودہ سڑک کو کرپشن سے پاک کرکے تعمیر کریں تو سڑک وسیع ہے مگر اس لنک روڈ کی تعمیر کے نام پر پہلے بھی کئی بار لوگ سرکاری خزانے کو چونا لگا چُکے ہیں اب مزید بغیر کسی معاوضے کے 6 فٹ چوڑا کس مقصد کیلئے کیا جارہا سمجھ سے باہر ہے۔ اس سلسلے میں اہلیان ژھوق مادھوپور نے باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے دوسری طرف منٹھوکھا اور گوہری کے زمین مالکان کی جانب بھی اس قسم کے عوام دشمن اقدام اُٹھانے کی صورت میں احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ عمائدین علاقہ کا ہمارے نمائندے سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس لنک روڈ کو ٹھیک کرنے کے بجائے توسیع کا مطلب کرپشن کا ایک نیا باب ہے جس سے عوام کو خسارا اور حکومت کے منظور نظر ٹھیکدار کو خوب فائدہ اور سرکاری خزانے کا بھی چونا لگانا ہے۔اُنہوں نے ضلعی انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ بغیر معاوضے عوامی املاک ہتھیانے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے ورنہ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے احتجاج کی کال دی جائے گی۔
کھرمنگ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بغیر معاوضہ کے لنک روڈ کی توسیع کیلئے عوام پر شدید دباو۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا