استور(بیورو رپورٹ) پکورئی داس ہائیڈرل پراجیکٹ گورنمنٹ خزانے کو کروڈوں کا ٹیکہ نیب مسلم لیگ نواز کے لاڈلے ممبران اور انکے پارٹنروں پر ہاتھ ڈالنے میں لیت و لال کا مظاہرہ کررہی ہے۔ نیب چھوٹے کیسز پر تو بہت پھرتیاں دیکھاتی ہے لیکن کروڈوں کے پراجیکٹ کی ناکامی پر مگر مچھ کی طرح خاموش ہے۔ پراجیکٹ دس سال سے التواء کا شکار ہے۔ اسکے باوجود پراجیکٹ کو ایک ارب 33کروڈ پر ریوائس کیا گیا۔ جو متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اس پراجیکٹ کی ناکامی کیوجہ سے رحمان پور یونین کو اندھیروں میں رکھا گیا ہے۔ دو گھنٹے جنریٹر چلا کر سرکاری خزانے کو ٹیکہ لگایا جارہا ہے۔ چینل کی تکمیل نہ ہونے کیوجہ سے زمینداروں کی زمینوں کے ساتھ ساتھ فاصلانہ کی مد میں ادائیگیاں کر کے خزانے کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی ضلع استور کے صدر عبدالحمید خان نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ منسٹر فرمان اپنے بھائی کے لئے سیاست کررہے ہیں۔ عوام حلقہ نمبر 1 کے مسائل سے انکو کوئی سروکار نہیں۔ پکورئی داس ہاہیڈرل پراجیکٹ دس سال سے التواء کا شکار ہے۔ اور اسکی تعمیر کی مد میں پیسے بھی لئے گئے۔ لوگوں کو کمپنسیشن بھی دیا گیا۔ لیکن پراجیکٹ تکمیل تک بھی نہیں پہنچا۔ دس سال بعد پراجیکٹ کی کاسٹ کو تین گنا کر کے پھر زیرو سٹیج پر لایا گیا۔ مسلم لیگی حکومت آپنوں کو نوازنے کے لئے سرکاری خزانے پر اربوں کا ٹیکہ لگا رہی ہے۔ چیف سکریٹری اور نیب اس پراجیکٹ کی ناکامی اور دوبارہ کاسٹ ریوائس کرانے کی تحقیقات کرائے۔ منسٹر اور اسکے کاروباری پارٹنر کو لاڈلوں کا پروٹوکول دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ استور میں سرکاری اداروں کو مسلم لیگی منسٹر نے آپنی چراگاہ بنا کر رکھ دیا ہے۔
استور پکورئی داس ہائیڈرل پراجیکٹ میں خوردبرد، سرکاری خزانے کو کروڈوں کے ٹیکہ کا انکشاف۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا