کراچی( نیوز ڈیسک) کراچی میں گلگت بلتستان ایورنس فورم کے زیر اہتمام کراچی میں گلگت بلتستان سمینار سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز عالم دین اور اسکالر سیکرٹیری جنرل مجلس وحدت المسلمین پاکستان علامہ محمدامین شہیدی نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ آغا ضیاالدین کو شہید کروانیوالی طاقتیں آغا علی رضوی کو راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ اُنکے اس بیان کو کسی بھی میڈیا نے نہیں چھاپا لیکن سوشل میڈیا پر اُن کے اس انکشاف کو لیکر ہنگامہ بھرپا ہوگیا ہے اور اس حوالے سے عوام کی طرف سے شدید خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر متحدہ مجلس وحدت المسلمین کے مرکزی قائدین پر سوال اُٹھایا جارہا ہے کہ آغا علی رضوی چونکہ عوام ایکشن کمیٹی کے رہنما ہونے کے ساتھ متحدہ مجلس وحدت المسلمین گلگت بلتستان کے بھی جنرل سیکرٹیری ہیں اور مرکزی قائدین نےاس انکشاف کیلئے کسی جلسے یا سمینار کا انتظارکیوں کیا؟ عوام کی طرف سے سوال اُٹھا یا جارہا ہے کہ علامہ امین شہیدی اگر اس حوالے سے اگاہ ہیں تو اُنہوں نے پریس کانفرنس کرکے اس ہم مسلے کو قومی میڈیا پر کیوں نہیں اُٹھایا؟۔ عوامی حلقوں میں اس حوالے سے شدید غم اور غصہ پایا جاتا ہے اور حکومت گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا ہے کہ علامہ امین شہیدی سے اس حوالے سے پوچھا جائے اور اُن کے انکشاف میں حقائق ہونے کی صورت میں عوامی حقوق کے مزکزی علمبردار آغا علی رضوی کیلئے فول پروف سیکورٹی کا انتظام کریں ورنہ خدانخواستہ کسی بھی ناگہانی صورت میں تمام تر ذمہ داری وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن اور مسلم لیگ نون کی حکومت پر عائد ہوگی۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا