گلگت ( پ،ر) متحدہ مجلس عمل گلگت بلتستان کے ممبر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی اور متحدہ اپوزیشن کے رکن حاجی رضوان نے نجی ویب سائٹ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ شیڈول فورتھ نیشنل ایکشن پلان کا ایک اہم جزو ہے، ایکشن پلان کا مقصد قومی سلامتی اور پاکستان کی بقاء ہے، لیکن گلگت بلتستان میں شیڈول فورتھ کو سیاسی بنیادوں پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی پارٹی کے فرد یا عہدیدار نے ریاست کیخلاف بات کی ہو، وفاق پاکستان، آئین پاکستان کیخلاف کوئی تقریر کی ہو، ملک کی سالمیت و بقاء کیخلاف کوئی عمل کیا ہو تو ان کیخلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہے، یہ ہمارا موقف ہے اور یہ بالکل واضح ہے، لیکن ایک بات میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی نے کسی بھی ادارے کے فرد یا پالیسی سے اختلاف کیا ہو اور وہ اختلاف رائے رکھتا ہو تو یہ ان کا جمہوری، آئینی اور قانونی حق ہے، کسی فرد یا پالیسی کے کسی جزو سے اختلاف کا حق ملک کا آئین دیتا ہے۔ اُنکا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں نیشنل ایکشن پلان کا استحصال ہو رہا ہے، مجھے لگ رہا ہے کہ فورتھ شیڈول کا استعمال سیاسی بنیادوں پر ہو رہا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ اپیکس کمیٹی اس معاملے پر فوری اور سنجیدگی سے غور کرے، کیونکہ فورتھ شیڈول کے سیاسی استعمال سے جو لاوا اس وقت پک رہا ہے، اس کی دوگنی قیمت چکانا پڑسکتی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ اس وقت شیڈول فورتھ میں تمام مکاتب فکر کے افراد اور شخصیات کو شامل کیا گیا ہے، میں نے پہلے ہی کہا کہ اگر کسی نے ملک کی سالمیت اور آئین پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے تو ان کیخلاف ضرور کارروائی ہونی چاہیے، لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو ہم اس شیڈول کو مسترد کرتے ہیں اور شدید مذمت کرتے ہیں۔ سید علی رضوی کے معاملے کو ہم دیکھ رہے ہیں، ہم جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کن دفعات کی بنیاد پر ان کو شیڈول فورتھ میں شامل کیا گیا اور کن وجوہات کی بنیاد پر ثابت کرنا ہوگا کہ سید علی رضوی اور دیگر افراد نے کونسی تقریر کی ہے یا کونسا عمل کیا ہے کہ جس کی بنیاد پر انہیں شیڈول فورتھ میں ڈالا گیا ہے۔ سید علی رضوی سب سے زیادہ محب وطن ہیں، وہ حقوق کی بات کرتے ہیں، گلگت بلتستان کے حقوق کا دفاع کرتے ہیں، مظلوموں کی آواز سنتے ہیں اور عوام کیلئے قربانی دیتے ہیں۔ اگر یہ ان کا قصور ہے تو ہم اس شیڈول فورتھ کو مسترد کرتے ہیں۔
گلگت بلتستان میں نیشنل ایکشن پلان کا استحصال اور فورتھ شیڈول کا استعمال سیاسی بنیادوں پر ہو رہا ہے. رہنما مجلس وحدت المسلمین۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا