راولپنڈی (ویب ڈیسک)راولپنڈی میں کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ جب مسلم لیگ ن بنا رہے تھے تو 15 سے 20 لوگ تھے لیکن آج ان لوگوں میں سے ایک بھی پارٹی میں موجود نہیں ہے، ان تمام افراد کو یا تو نواز شریف نے چھوڑ دیا یا انہوں نے پارٹی چھوڑ دی۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف بہت زیادہ سینیر یا اہل نہیں تھے کہ پارٹی سربراہ بن سکیں لیکن ان دنوں کسی ایک کو آگے کرنا تھا تو فیصلہ کیا کہ نواز شریف کو آگے کر دیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ 34 سال سے نواز شریف کا بوجھ اٹھایا، نواز شریف کا مجھ پر نہیں بلکہ میرا ان پر اور شریف خاندان پر قرض ہے۔سابق وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ چاہتا تھا کہ آج ن لیگ اور نوازشریف کے حوالے سے کھلی باتیں کروں، ارادہ تھا کہ بہت سی دل کی باتیں کھل کر سامنے رکھوں لیکن میڈیا کے سامنے بہت سی باتیں نہیں کر سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی کا جو کردار رہا وہ سامنے لانا چاہتا ہوں لیکن نواز شریف اور ن لیگ کے ساتھ چند ماہ سے جو کچھ ہو رہا ہے بتانے کا یہ موقع نہیں کیونکہ بیگم کلثوم نواز کی طبعیت خراب ہے۔چوہدری نثار نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ میری نواز شریف سے راہیں جدا ہو جائیں، میں نے ہمیشہ سر اٹھا کر سیاست کی، کوئی کام اصولوں کے خلاف نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ نہ بکنے والا ہوں اور نہ ضمیر فروش ہوں، سیاست صرف عزت کے لیے کروں گا، کسی کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑا نہیں ہوا اور نہ کسی کی چاپلوسی کی۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ لگانے والے شخص کو نظر انداز کر رہے ہیں جو 1985 سے الیکشن جیتتا آ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو مجھے خاموش رہنے کا کہتے ہیں ان کو کہتا ہوں 25 جولائی کو عوام جواب دیں گے۔تحریک انصاف کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے چوہدری نثار نے کہا کہ اس حوالے سے خبریں نہ پھیلائی جائیں، جو فیصلہ کروں گا سب کو بتاؤں گا۔چوہدری نثار کے جلسے میں گو نواز گو کے نعرے بھی لگ گئے جس پر مسلم لیگ ن کے ناراض رہنما نے کہا کہ وہ تو ہو گیا اب یہ وقت نہیں ہے۔
چودھری نثار علی خان نے نواز شریف اور ان کی بیٹی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا