گلگت بلتستان حکومت کی منافقانہ پالیسی پر چیرمین عوامی ایکشن کمیٹی نے اہم سوال اُٹھا لیا۔

0 0

گلگت ( ڈسٹرک رپورٹر) وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے عوام کی منشاء کے خلاف آرڈ 2018 نافذ کرنے کے بعد شدید عوامی رد عمل نے گلگت بلتستان میں مسلم لیگ نون کی حکومت کو شدید پریشانی میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان میں متحدہ اپوزیشن اور عوامی ایکشن کمیٹی نے اس آرڈر کو مسترد کرکے عوام کو اس آرڈر کے خلاف سڑکوں پر لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلے میں بہت جلد عوامی رابطہ مہم تیز کرنے کا فیصلہ بھی ہوگیا ہے۔ لیکن 25 اپریل کو وزیر اعظم کی آمد کے موقع پر شدید عوامی رد عمل اور اسمبلی کے اندر اپوزیشن کے ممبران کی جانب سے احتجاج پر داد رسی نہ ہونے کی وجہ سے آرڈر کی کاپیاں پھاڑنے اور وزیر اعظم کے سامنے احتجاج کرنے کے بعد مسلم لیگ نون کی حکومت شدید بوکھلاہٹ کے شکار ہیں۔ حکومتی وزیروں اور مشیروں نے عوامی احتجاج کو فرقہ واریت سے جوڑنے کی بھی ناکام کوشش کی گئی جسے عوامی ایکشن کمیٹی اور متحدہ اپوزیشن کے رہنماوں نے کامیاب ہونے نہیں دیا گیا۔ اب حکومت کیلئے ایک اور امتحان نئے آرڈر کے تحت بجٹ پیش کرنے کا ہے کیونکہ متحدہ اپوزیشن نے اس مسلط اور محکومی والے آرڈر کے تحت بجٹ اجلاس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری طرف ڈپٹی اسپیکر جعفراللہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ بجٹ پیش کرنے کیلئے متحدہ اپوزیشن کے چار ممبران کا حکومت کے ساتھ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اُن کے اس بیان پر عوامی ایکشن کمیٹی کے چیرمین مولانا سلطان رئیس نے سخت ری ایکشن کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے اگر بقول ڈپٹی اسپیکر کے سارے اپوزیشن ممبران اسمبلی اور انکی جماعتیں تحریک اسلامی،وحدت مسلمین،پیپلزپارٹی حکومت کے ساتھ ہیں تو اس تحریک کو سنی وزیراعلیٰ کے خلاف سازش قرار دیکر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے۔ اُن کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر خوب سراہا اجارہا ہے،سوشل میڈیا پر مسلم لیگ نون کی جانب سے اپنی ناکامی کو فرقہ واریت سے جوڑنے کی کوشش کو اُن کے ماضی کی پالیسیوں کا تسلسل قرار دیا جارہا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website