گلگت (سٹی رپورٹر) گلگت بلتستان میں ایک طرف متحدہ اپوزیشن گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے خلاف اسلامی تحریک کے ممبر اسمبلی اور اپوزیشن لیڈر کی قیادت میں حکومت کے خلاف نبرد آزما ہیں دوسری طرف اسلامی تحریک کے کچھ ممبران نے مفادات کی خاطر مسلم لیگ نون کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کا فیصلہ کرلیا۔ آج اسمبلی کے سیشن میں اسلامی تحریک کے رکن اسمبلی ریحانہ عبادی نے اپوزیشن کے ساتھ بائیکاٹ کرنے کے بجائے مسلم لیگ ن کے ساتھ سیشن میں بیٹھی رہی اور کھل کر حکومت کا ساتھ دیا۔ انھوں نے کہا کہ 2018 کا پیکیج 2009 والے سےقدرے بہتر ہے مگر ہمیں مکمل آئینی صوبہ چاہئے۔ اس موقع پر مسلم لیگ نون کے ممبران کی خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان نے ریحانہ عبادی کو گلگت بلتستان کی پہلی آئرن لیڈی کا لقب دے دیا۔جعفراللہ خان کا کہنا تھا کہاگر اپ کو کچھ نقصان پہنچا تو اپوزیشن لیڈر زمہ دار ہونگے اور ہم ہر وقت اپ کے ساتھ ہیں۔جبکہ اسمبلی سے باہر نکلتے ہوئے وزیر اعلی نے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔جبکہ برکت جمیل نے کہا کہ اپ کا وہ والا کام ہو جائے گا۔ یوں اس وقت گلگت بلتستان اسمبلی میں اسلامی تحریک کے دو نمائندوں نے ذاتی مفادات کیلئےکھل کر حکومت کے ساتھ دیتے ہوئے قومی ایشوز کے اس نازک موڑ پر بھی وہ حکومت کے گود میں بیٹھ گئے۔
جی بی اسمبلی میں اسلامی تحریک کے ممبران قیام کے وقت سجدے میں گر گئے، حکومتی حلقوں میں عید کا سماں۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا