گلگت (نمائندہ خصوصی) گلگت بلتستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر ناصر حسین راکی نے کہا کہ جب تک ایف بی آر گلگت بلتستان سے وی بوک کے نام سے کالے قانون کو برخاست نہیں کرتا پاکستان اور چائینہ کے درمیان سرحدی تجارت مکمل طور پر بند رہے گی اس سلسلے میں تاجروں نے آج بدھ کے روز سے سوست پورٹ میں احتجاجی دھرنے کا آغاز کردیا ہے کسٹم حکام گلگت بلتستان کے عوام بھیڑ بکریاں نظر آتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں مختلف تاجر وفود سے بات کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ ہم نے وفاقی وزیر خزنہ سے بھی ملاقات میں دوٹوک الفاظ میں وی بوک کے خاتمےکا مطالبہ کیا مگر ایف بی آر حکام ٹھس سے مس نہیں ہوئے جو کہ بے حسی کی انتہا ہے ایف بی آر کا رویہ افسوس ناک ہے اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو حالات مزید خراب ہونگے کسٹم کالے قانون کی وجہ سے گزشتہ دو ماہ سے سرحدی تجارت بند ہے اور 20ہزار سے زائد تاجر بے روزگار ہوگئے ہیں انہوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ آڈر 2018سے حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے گلگت بلتستان سے اایف بی آر کا کالا قانون وی بوک کا خاتمہ کرکے تاجر براردی کو درپیش معاشی بحران کو حل کیا جائے اور ہزاروں خاندانوں کو چولہا ٹھنڈے ہونے سے بچایا جائے ،واضح رہے کہ گلگت بلتستان ایمپورٹرز اینڈ ایکسپورٹرز اور پاک چائینہ تجارت کربے والے تاجروں نے وی بوک کے خلاف بدھ کے روز سے پاک چائینہ سرحدی تجارت ،سوست ڈرائی پورٹ میں احتجاجی دھرنے کا آغاز کر دیا ہے جس میں گلگت بلتستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے جانب سے بھرپور تعاون حاصل ہے ۔
گلگت بلتستان سے وی بوک نامی کالے قانون کومکمل طور پر ختم کرنے تک سرحدی تجارت مکمل طور پر بندررکھنے کا اعلان۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا