شگر(پ ر) ایکشن کمیٹی شگر کے صدر شیخ زکاوت علی نصرالدین اور بازار کمیٹی شگر کے صدر وزیر محمد نسیم نے کہا ہے کہ آرڈر2018کو ہم نہیں مانتے۔شگر سے اگر کسی نے اس آرڈر کی حمایت کی ہے تو صرف فرد واحد کی ہوسکتی ہے عوام کا ان کو بالکل تائید حاصل نہیں۔ہم اس آرڈر کیخلاف ڈٹ جائیں گے۔ اس آرڈر کے خلاف عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان اور انجمن تاجران کال دیں تو ان کے شانہ بشانہ چلیں گے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان پر مسلط کئے گئے آرڈر2018ایف سی آر کی دوسری شکل ہے جسے ہم کسی صورت قبول نہیں کرینگے۔یہ ایک کالا قانون ہے جسے موجودہ حکومت نے نافذ کرکے ہماری پاکستان کیساتھ وفاداری پر شک کرتے ہوئے ہمارے حقوق پر شپ خون مارا ہے۔ آئینی صوبہ ہمارا حق ہے۔ اور اس حق کیلئے گلگت بلتستان کا بچہ بچہ کٹ مرنے کو تیار ہے۔انہوں نے کہا ہے ضلع شگر کے منتخب نمائندے نے اگر اس کی حمایت کی ہے تو یہ ان کی ذاتی اور فرد واحد کا فیصلہ ہے۔ شگر کی عوام کا ان کو بالکل بھی حمایت حاصل نہیں ہے۔ اس کالے قانون کے خلاف عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہے ۔اگر ضرورت پڑی کو شگر کی عوام اس قانون کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرینگے اور پورے ضلع سمیت گلگت بلتستان کا جام کرینگے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا