گلگت (سوشل میڈیا سروے رپورٹ، شہزاد علی برچہ) حالیہ سیاسی منظر نامہ کے بعد حکمران جماعت اور وزیر اعلی کی مقبولیت میں تیزی سے کمی جبکہ اپوزیشن اور خصوصی طور پہ حافظ سلطان رئیس الحسینی کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا، نوجوان کی بڑی تعداد نے اپوزیشن اور ایکشن کمیٹی کی موقف کی حمایت میں Facebook,whatsapp اور ٹیوٹر پہ اپنی رائے کے ساتھ Werejectgborder2018# لکھ کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ جبکہ احتجاج کے دوران نکالی خانے والی ویڈیوز ہزاروں لوگ شیئر کرتے رہے اور لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے دیکھا اور اپنی رائے کا اظہار کیا۔ Facebook پہ نوجوانوں نے سلطان رئیس چیئرمین عوامی ایکشن کمیٹی کی تصویر اپنی تصویر کی جگہ لگا کر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کی۔ گزشتہ چار دنوں سے گلگت بلتستان کے لوگ سماجی ویب سائٹس پہ آغا علی رضوی ، مولانا سلطان رئیس، Muhammad Shaffi اپوزیشن لیڈر، Nawaz Khan Naji راجہ جہانزیب اور محمد جاوید کے حوالے سے لکھتے رہے اور ان کی احتجاج کی تصاویر شئیر کرتے رہے۔۔ GB oder کی کاپی پھاڑنے کی تصویر سب سے زیادہ وائرل ہوئی۔ عوامی راے کے مطابق اپوزیشن لیڈر نے گلگت بلتستان کی قوم کو یکجا کیا جس کو ایک بڑی کامیابی منانا جارہا ہے۔ نوجوان لکھتے ہیں کہ مولانا سلطان رئیس نے فرقہ واریت کے ناسور کو گلگت بلتستان سے ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اور نوجوان ان سے بہت متاثر نظر آرہے ہیں۔ حکومت کی احتجاج کرنے والوں پہ تشدد کرانے کی وجہ سے وزیر اعلی کا امیج بہت گرتا ہوا نظر آیا۔ سماجی ویب سائٹس پہ اس کو سری نگر اور فلسطین سے تشبیہ دی گی ہے۔۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا