اسلام آباد( نامہ نگار خصوصی) چیرمین عوامی ایکشن مولانا سلطان رئیس نے گلگت بلتستان تھنکرز فورم میں خصوصی طور پر اظہار خیال کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے وفاق کی جانب سے گلگت بلتستان کی ستر سالہ محرمیوں کو ختم کرنے کیلئے آذاد کشمیر طرز کے نظام کی آفر ہوئی تھی جسے وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن نے ٹھکرا دیا تھا۔ تفصیلا ت کے مطابق اُنکا کہنا تھا کہ آج سے کوئی ڈیڑھ دو ماہ پہلے گلگت بلتستان پیکج کے حوالے وزیر اعلیٰ نے گلگت بلتستان کے اسٹیک ہولڈر سے مشاورت کیلئے خصوصی طور پر وزیر اعلیٰ نے ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے وفود سے ملاقات کی۔ اُ س ملاقات میں اُنہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے گلگت بلتستان کیلئے بھی آذاد کشمیر طرز کے سیٹ کی آفر کی تھی جسے میں نے مسترد کردیا۔ مولانا سلطان رئیس کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے یہ فیصلہ کس وجہ سے کیا کس کو خوش کرنے کیلئے کیا معاملہ جواب طلب ہے۔
مولانا سلطان رئیس نے مزید انکشاف کیا ہے کہ جس دن وزیر اعظم نے گلگت کا دورہ کرنا تھا اُس دن ہمیں بتایا گیا تو حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ احتجاج کیلئے خصوصی طور پارک تیار کیا گیا ہے لہذا آپ لوگ سڑک بند کرنے کے بجائے پارک میں جاکر اپنا احتجاج ریکارڈ کریں۔ یوں عوامی ایکشن کمیٹی اور متحدہ اپوزیشن جب پارک کی طرف بڑھنے لگا تو مجھے احساس ہوا کہ عوامی جم غفیر کو روکنے کیلئے دیامر سے خصوصی طور پر پولیس کو آگے رکھا ہوا تھا تاکہ فرقہ وایت کا رنگ دے سکے۔ ہم نے اس حوالے سے معلومات کیا تو پتہ یہ چلا کہ کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پر فرقے کی بنیاد پر حملہ ہوسکتا ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہ میں نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے مسلک اہل سنت کے اکابرین کو احتجاج میں فرنٹ سائڈ کر رکھا تاکہ فرقہ واریت پھیلانے کی اس سازش کو ناکام بنا سکے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا