گلگت(نامہ نگار خصوصی)گلگت وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے گزشتہ روز گوپس اور یاسین میں دو الگ الگ عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے غذر کے عوام مسلم لیگ ن اورر نوازشریف کے سپاہی محب الوطن اور پرامن ہیں۔ غذر کی تعمیروترقی حکومت کی اولین ترجہی ہے ۔ہمارے پاس مسائل کے انبار اور وسائل محدود ہیں ۔ہم کوئی جھوٹا اعلان نہیں کرتے اس وقت غذر حلقہ 2 میں 1 ارب 47کروڑ کے سکیمیں جاری ہے ۔ اپنے خطاب میں اُنہوں نے کہا کہ حکومت ایفاد پراجیکٹ کے تحت گلگت بلتستان میں 2لاکھ کنال زمین کو آباد کرکے عوام میں تقسیم کیاجائے گا۔ اُن کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایفاد پروجیکٹ کی یکطرفہ تقسیم اور اس اہم پروجیکٹ جس کیلئے گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کے بجٹ سے کٹوتی ہوگی لیکن وزیر اعلیٰ نے صرف اپنے منظور نظر اضلاع اور علاقوں میں اس پروجیکٹ کے تحت بنجر زمینوں کو آباد کیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے پہلے بھی نوزائیدہ ضلع شگر اور کھرمنگ کے عوام احتجاج کرچُکے ہیں کیونکہ نئے اضلاع میں ترقیاتی کام نہ ہونے کے بابر ہے جبکہ وزیر اعلیٰ اس قسم کے اہم پراجیکٹ کو بھی لسانیت اور مسلکی بنیاد پر تقسیم کرکے گلگت بلتستان کے عوام کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ کسی بھی این جی او پروجیکٹ کی تقسیم کیلئے کرپشن کمیشن اور منفی و متعصب سوچ کی بنیاد پر تقسیم کے بجائے عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جمہوری انداز میں فیصلے کریں۔
وزیر اعلیٰ کا ایفاد پروجیکٹ کے تحت زمینوں کو آباد کرنے کا دوبارہ اعلان، مگرکئی اضلاع کا نام ہی نہیں۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا