شگر(نامہ نگار)شگر الچوڑی میں پینے کا پانی اور ندی نالوں میں ظغیانی شدت اختیار کرگئی۔ علاقے میں پانی کی پائپ لائن نہ ہونے کہ وجہ سے لوگوں کو پانی کا حصول خواب بن چکا ہے۔ خواتین پانی کی حصول کیلئے کئی کئی میل دور جانے پر مجبور ہیں۔گدلہ اور گندہ پانی کی استعمال سے علاقے میں طرح طرح کی بیماریاں جنم لینے لگے۔الچوڑی یوتھ فورم کے صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی نمائندوں اور سرکاری حکام کی جانب سے الچوڑی کو بالکل ہی نظر انداز کیا جارہاہے۔دور جدید میں بھی لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔اور گندہ اور گدلہ پانی پینے پر مجبور ہے ۔ جبکہ پانی کی حصول کیلئے خواتین کو کئی کئی میل خواتین کو دربدر ہورہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ کی سالوں سے ندی نالوں کی جانب سے ظغیانی کے باعث قیمتی زمین اور درختان کی کٹاو جاری ہے تاہم کٹاو روکنے کیلے کسی قسم کی حکمت عملی اور اقدامات نہیں اٹھایا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے اس سال بھی مزید کٹائو کا خدشہ موجود ہے۔لہذا فوری طوری نہروں کی صفائی کیساتھ ندی نالوں میں حفاظتی پشتوں کی تعمیر کیلئے اقدامات کیا جائے اور پینے کی صاف پانی کی فراہمی کیلے اقدامات کیا جائے۔ورنہ الچوڑی کی عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہونگے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا