گلگت (ڈسٹرک رپورٹر) ڈپٹی سپیکر قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان جعفراللہ خان نے اپوزیشن جماعتوں سے آئینی اصلاحات کے معاملے پر مشورہ مانگ لیا۔ مقامی میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنکا کہنا تھا کہ ہمارے نیک مشورے پر اگر کوئی عمل نہیں کرتے تو ہماری صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ ہمار ا مقصد گلگت بلتستان کے عوام کو ایک بہترین سیٹ اپ دینا ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے اسلام آباد میں بیٹھ کر 2009 کا پیکیج دیاہمارے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتمادمیں لیکر سیٹ اپ کا اعلان کیاجائے گا۔انہوںنے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کو کسی طور پر بھی نظرانداز نہیںکیا جاسکتا اور نہ ہی کشمیریوں کی قربانیوں کو رائیگاں جانے دیں گے۔ اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کو مکمل آئینی صوبہ بنایا گیا تو انڈیا مقبوضہ کشمیر کو صوبہ بناکر مسئلہ کشمیر کو ختم کرکے کشمیریوں کیساتھ زیادتی کریگا اور اس مسئلے پر جن لوگوں نے قربانیاں دی ہیں وہ رائیگاں جائے گی۔اُنہوں نے خواہش کا اظہار کیا کہ شوق تو ہمارا بھی ہے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مکمل نمائندگی ملے لیکن ایسا ممکن نہیں لہذا جہاں ہم نے ستر سال برداشت کئے ہیں وہیں مزید بھی برداشت کیاجائے اور آہستہ آہستہ پاکستان میں ہی شامل ہونے کا انتظار کریںکیونکہ ہماری منزل پاکستان ہی ہے۔
گلگت بلتستان آئینی صوبے کے کیا نقصانات ہیں ؟ ڈپٹی اسپیکر جعفراللہ خان نے واضح کردیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا