چلاس(راجہ اشفاق طاہر) مجسٹریٹ درجہ اول،تحصیلدار ہیڈکوارٹر چلاس تنویر احمد،ڈی ایف او دیامر محمد افتخار،آر ایف او تھور سجاد اور ایس ایچ او محمد فقیر تھورکی قیادت میں محکمہ جنگلات اور پولیس کی ٹیم نے گزشتہ روز غیر قانونی طور پر جموگہ تھور سے کھٹوبٹ تھور ڈھلائی کی گئی 1043نگ پر مشتمل سلیپران دیار (8,865تقریباً) لکڑی کو موقع پر باضابطہ طور پر ضبط کرکے ضبطی موس (DHM)بھی ثبت کردیا گیا ہے۔ ڈی ایف او محمد افتخار نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر ڈھلائی کی گئی لکڑی کے ذمہ داروں کے خلاف تحت ضابطہ فارسٹ ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ محکمہ جنگلات کی طرف سے دیامر میں سب سے بڑی کارروائی ہے اور دیامر کے ہر گاؤں میں تحفظ جنگلات کمیٹی بھی عمائدین علاقہ کے طور پر بناکر جنگلات کی غیر قانونی کاٹی کی روک تھام کیلئے کام کررہے ہیں۔
یاد رہے گلگت بلتستان میں جنگلات کی کٹائی میں سب سے ذیادہ مقامی سیاست دان ملوث ہوتے ہیں اور آج تک کسی جگہ سے ضبظ شدہ لکڑیوں کے بارے میں کوئی حساب نہیں کیونکہ لکڑیاں عوام سے ضبظ کرکے سرکاری افیسرز اور سیاست دان اپنے ضروریات کیلئے استعمال یا فروخت کرتے ہیں حکومت کواس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا