اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکمران جماعت سمیت دیگر سیاسی حلقوں میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کے نگران وزیر اعظم بننے کی خبر پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق قیاس کیا جا رہا ہے کہ راحیل شریف نگران وزارت عظمیٰ کے حوالے سے ایک مضبوط اور پسندیدہ ترین اُمیدوار کے طور پر بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ ٹاپ کلاس کے بیوروکریٹس کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میںاس حوالے سے اہم سیاسی ڈیویلپمنٹ بھی متوقع ہے۔اور جنرل راحیل شریف کو اہم ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔ اس صورت میں اسلامی اتحاد کی کمان فوج کے کسی اور سابق فور یا تھری سٹار جنرل کو بھی سونپی جا سکتی ہے۔ حکمران جماعت اور لیڈر آف اپوزیشن سید خورشید شاہ کی جانب سے جنرل راحیل شریف کے نام پر مکمل خاموشی ہے۔ کلب کلاس بیوروکریسی کا کہنا ہے کہ اگر راحیل شریف بطور نگران وزیر اعظم آتے ہیں تو پھر نئے الیکشن کا شیڈول آگے پیچھے بھی ہو سکتا ہے۔تاہم وفاقی دارالحکومت میں نگران وزیر اعظم کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ اور سیاست دان سابق گورنر اسٹیٹ بنک ڈاکٹر عشرت حسین ، سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس تصدق حسین جیلانی ، جسٹس (ر) شاکر اللہ کان اور سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد کے پاس چلا جائے گا وہاں پر حکومت کو چھ ووٹ ہیں اور پیپلز پارٹی کے پاس 4 ووٹ،، پی ٹی آئی کے پاس 2 ، جمیعت علمائے اسلام کے پاس 1 اور ایم کیو ایم کے پاس بھی ایک ووٹ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نگران وزیراعظم کے نام کی منظوری کے حوالے سے آبپارہ اور راولپنڈی کو بھی آن بورڈ کیا جائے گا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا