شگر( نامہ نگار)پرائمری سکول سرنگو برالدو میں پڑھانے کیلئے استاد ابھی تک نہ مل سکا۔گائوں کے بچے تعلیم سے محروم ۔مقامی سوشل ورکر محمد ابراہیم کا کہنا تھا کہ سرنگو نامی گائوں شگر کے ٹو کے دامن میں واقع ہے جو کہ آج کی ٹیکنالوجی دور میں ا ب بھی سیکھانے والے بھی نہیں ھے غریب عوام کے حال پوچھنے والا کوئی نہیں۔آٹھ سال قبل سکول کیلئے دو استاد اور ایک چو کیدار کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تھالیکن آٹھ سال گزرنے کے بعد سکول کو ا بھی تک نہ استاد ملا نہ چو کیدار ھم سب ابھی حکومت سے التجا کرتے ھے کہ اس غریب گائوں کے بچوں کی مستقبل پر رحم کریں اور کہ اسکے سکول کے نام پر تعینات استاد اور دیگر سٹاف کو فوری طور واپس سکول بھیجا جائے۔اگر آٹھ سال پہلے جاری ہونے والی آرڈر جعلی یا علاقے کیساتھ کوئی ڈرامہ رجایا گیا تو ان لوگوں کے خلاف ایکشن لیاجائے جنہوں نے ہمارے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلا ہے۔ ورنہ ٹورسٹ سیزن میں عوام کے ٹو روڈ کو بلاک کرکے سخت احتجاج کرینگے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا