نگر ( اقبال راجوا) میں ٹاؤن ایریاء نگر چھلت کی مارکٹیں مضر صحت اشیاء سے بھر گئیں عوام کا اسسٹنٹ کمشنر نگر سے مضر صحت اشیاء کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے اور دکانداروں کو معیاری اشیاء دکان سے فروخت کرنے کے لئے فہرست مرتب کر کے حوالے کرنیکا مطالبہ۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں کریانہ اور کھانے پینے کی دکانوں میں مسالحے ،دودھ ،چائے پتی،بسکٹ،تیل ،ٹافی ،پاپڑ ،بناسپتی گھی اور دیگر روز مرہ کی استعمال کی تمام اشیاء کسی معیاری اور مستند مینو فیکچرنگ کمپنی کا نہیں ملتے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے گلگت سے لاکر کھلا تیل ڈاٹسن میں ڈال کر پورے مارکیٹ کے سینکڑوں دکانوں میں ہزاروں لیٹر فروخت کیا جاتا ہے ،دوکاندار کو معلومات نہ ہونے اور سستا ہونے کے سبب یہ تیل خرید لیتا ہے او دکاندار ر گاہک کو مہیا کرتا ہے ۔ جبکہ خریدار یہ نہیں جانتا ہے کہ مذکورہ تیل اس کا اور اس کے بچوں کے صحت پر کیا اثرات مرتب کرے گا۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کھلا تیل مارکیٹ میں فراخت کرنے والے تیل ایجنٹوں اور دکانداروں کے خلاف کاروائی کی جائے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پابند کیا جائے۔ عوامی حلقوں نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو سمجھ رہے ہیں کہ ہم اپنے گھر والوں کو خوراک کے نام پر نہ جانے کیا کچھ کھلا رہے ہیں اس لئے نہایت ضروری یہ ہے عوام میں بھی اشیاء خور د و نوش کے استعمال کے حوالے سے ضلعی حکومت معیاری اشیاء خورد و نوش کی فہرست مرتب کر کے علاقے کے تمام دکانداروں کے حوالے کرے اور ہدایت کرے کہ مذکورہ اشیاء کے علاوہ غیر معیاری اشیاء رکھنے کی اجازت نہ دی جائے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا