اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) برطانوی نشریاتی ادارے نے رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ قصور میں بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور پھر ان کے قتل کے واقعات منظرِعام پر آنے کے بعد ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کی ہدایات پر اس معاملے پر ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک الگ دو رکنی ٹیم بنائی گئی جو ملک کے مختلف علاقوں میں بچوں کی جنسی تشدد پر مبنی فلمیں بنانے والے ملزمان کے خلاف کارروائی اور ان واقعات کے سدباب کے لیے اقدامات کرے گی، اس سے قبل سائبر کرائم کا شعبہ ہی ان معاملات کو دیکھتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں کے ساتھ زیادتی کی ویڈیوز اور تصاویر بنانے اور انہیں انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے کے جو مقدمات درج ہوئے ان میں متعدد پنجاب اور بالخصوص پنجاب کے وسطی علاقے سرفہرست ہیں جہاں سے متعدد ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا