اسلام آباد(زاہد حلیم) قاتل پہاڑ نانگا پربت پر پھنسے ہوئے دو غیر ملکی کوہ پیماؤں میں سے ایک بحفاظت بچا لیا گیا جب کہ دوسرے کا کچھ پتہ نہیں چل سکا ۔ پاک آرمی کی ریسکیو ٹیم گزشتہ تین دنوں سے ان کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے تھے۔
تفصیلات کے مطابق فرانس سے تعلق رکھنے والی خاتون کوہ پیماء الزبتھ ریول اور پولینڈ کے ٹومک نانگا پربت سر کرنے کے مہم پر تھے اور سات ہزار میٹر کی اونچائی پہ پہنچے تھے تاہم خاتون کوہ پیماء کے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیاں فراسٹ بائیٹ کا شکار ہوئی جبکہ مرد کوہ پیماء کی بینائی شدید متاثر ہوئی تھی اور انہوں نے سٹیلائٹ فون کے ذریعے بیس کیمپ میں اطلاع دی تھی۔
جس کے بعد پاک آرمی کے ایوی ایشن ٹیم نے ان کو ریسکیو کیا گیا ۔فرانسیسی خاتون کوہ پیما ء الزبتھ ریول نے پولش کوہ پیماء ٹومک کو کیمپ 4 تک پہنچا دیا جبکہ خود کیمپ3 تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی آرمی کے ریسکیو ٹیم نے بحفاظت سکردو پہنچا دیا بعد ازاں اسلام آبادمنتقل کردیا گیا جہاں ان کا مکمل طبعی معائینہ کیا گیا۔
آرمی ایوی ایشن ٹیم کے مطابق چوٹی پر پھنسے پولش کوہ پیماء کا کچھ پتہ نہیں چل سکا اورشدید سردی جبکہ دشوار موسم کے باعث کوہ پیماء کی مزید تلاشی ختم کر دی گئی ہے ۔ خیال رہے نا نگا پربت کو قاتل پہاڑ کا نام اسی لئے دیا گیاہے کیونکہ یہ پہاڑ سر کرنا بہت ہی مشکل ہے اور اب تک درجن کوہ پیما ء اس پہاڑ کو سر کرنیکی کوشش کے دوران اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا