گلگت(ڈسٹرک رپورٹر) وزیر اعلی گلگت بلتستان کی جانب سے بار بار بیورکریسی کی راج ختم کرادی کے دعوے پر عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم رہنماوں نے خاموشی ختم کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے دوران حکومتی مذاکراتی ٹیم ہر مشکل سوال پر میٹنگ ہال سے نیچے کی طرف موجود بیسمنٹ کی طرف جاتے رہے۔ ہمیں جب شک ہوا تو ہم نے اپنے ذرائع سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ میٹنگ ہال کے بیسمنٹ میں بیٹھ کر دو بیوروکریٹس سینئر وزیر، دیگر وزرا سمیت پارلیمانی کمیٹی کو ڈکٹیٹ کر رہے تھے جو سفارشات عوامی ایکشن کمیٹی کے سامنے پیش کیا وہ بھی دراصل بیورکریٹس کا تیار کردہ تھا جسے حکومت نے پڑھ کر سُنا اسی طرح معاہدہ اور مطالبات پاک آرمی کے ذریعے ہی حل ہوئے ورنہ حکومت نے نواز شریف کو خوش کرنے کیلئے عوام پر چڑھائی کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے دوران پیش آنے والا عجیب واقعہ جو آپکو سوچنے پر مجبور کرے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا