گلگت (بیوور رپورٹ) گلگت بلتستان میں عوامی ایکشن اور انجمن تاجران نے پُرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلرپارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قانون ساز اسمبلی کے الزامات کو مسترد کردیا۔ نگر سے رکن قانون ساز اسمبلی جاوید حسین نے الزام لگایا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارش کے باوجود عوامی ایکشن کمیٹی نے آئینی حقوق کے مطالبے کی شق کو نکال کر قوم سے غداری کی ہے۔ اس حوالے سے عوامی ایکشن کمیٹی کے ترجمان غلام عباس نے کہا کہ سب سے پہلے اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کس قسم کا پلیٹ فارم ہے یہ کوئی سیاسی تنظیم نہیں بلکہ تمام جماعتوں پر مشتمل ایک کمیٹی ہے لہذا گلگت بلتستان کے آئینی حقوق پر ہر پارٹی کا الگ موقف ہے اور یہ کام عوام سے ووٹ لینے والے پارٹیوں کا مینڈیٹ ہے کیونکہ اس وقت کوئی گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ دیکھنا چاہتے ہیں کسی کا مطالبہ آذاد کشمیر طرز پر سیٹ کیلئے ہے کوئی عبوری صوبے کی ڈیمانڈ کرتے ہیں تو کوئی موجودہ نظام کو ہی اچھا سمجھتے ہیں ایسے ہم جب تک اس حوالے سے افہمام تفہم پیدا نہ ہو عوامی ایکشن اس پوزیشن میں نہیں کہ اس مسلے پر بات کریں کیونکہ یہ معاملہ خود سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک متنازعہ مسلہ ہے۔انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہمارا کوئی الگ ایجنڈا نہیں بلکہ ہر ایشو پر تمام پارٹیوں کے ساتھ ملکر جدوجہد ہمارے منشور کا حصہ ہے لہذا پیپلزپارٹی کے رہنما کا حکومتی زبان میں سیاسی متفقہ پلیٹ فارم عوامی ایکشن کمیٹی پر الزامات قابل افسوس ہیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا