اسلام آباد( ٹی این این نامہ نگار) وزیر اعلیِ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے جمعرات کو جی بی ہاوس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر روائتی انداز اپناتے ہوئے ٹیکس کے خلاف عوامی احتجاج کو مسلکی رنگ دیتے ہوے اُن کہنا تھا کہ بلتستان میں ایک ہی مسلک کے لوگوں کی اکثریت کی وجہ سے ہڑتال کی گئی جبکہ دیگر تمام اضلاع میں کاروباری سرگرمیاں اور معمول کے مطابق تھے۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے ہو کہا کہ احتجاج کرنے والوں کو بیرونی ممالک اور پاکستان کے مختلف شہروں سے فنڈنگ ہو رہی تھی اور احتجاج کرنے والوں کے قائدین کا بھارتی خفیہ ایجنسی ”را”کی جانب سے بھی فنڈنگ کے شکوو شبہات ظاہر کیے جارہے ہیں اس سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات کررہے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خطے کی حساسیت اور حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کو مدنظررکھتے ہوئے ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہد کیا۔اگر مظاہرین لانگ مارچ کرکے گلگت پہنچ جاتے تو فرقہ وارانہ تصادم کاخطرہ تھا۔ جس ہم نہیں چاہتے کیونکہ ہماری حکومت میں آنے کے بعد خطے میں میں مذہبی ہم آہنگی قائم ہوئی ہے جسے ہم کسی بھی صورت ثبوتاز کرنا نہیں چاہتے تھے۔
موقع پر موجود گلگت بلتستان کے نوجوانوں سے جب ہم نے اس حوالے سے سوال کیا تو اُنکا کہنا تھا کہ وزیر اعلیِ اسلام آباد کے گرم کمروں میں بیٹھ کر بھی حواس باختہ کھو چُکے ہیں لہذا اُنکے اس قسم بیان کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ گلگت بلتستان کے عوامی کی یکجہتی کو پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے دیامر سے لیکر کرگل اور چائنا بارڈر تک کے علمائے کرام اور عوام نے ملی یکجہتی کا عملی مظاہرہ کیا اس وجہ سے حفیظ الرحمن نے اپنی پریشانی کو جذبات میں جھوٹ اور پروپگنڈوں کے ذریعے عوام کو بتلا دیا۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماوں سے جب ہم نے اس حوالے سے سوال کیا تو اُنکا کہنا تھا کہ حفیظ الرحمن نواز شریف کی حمایت میں پاکستان کی طرح گلگت بلتستان میں بھی انتشار پھیلانا چاہتا تھا انہوں نے پولیس کو عوام پر ربڑ کی گولیاں چلانے کی حکم دی ہوئی تھی لیکن آرمی کی بروقت مداخلت نے حفیظ الرحمن کے عزائم کو شکست فاش ہوئی۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا