شگر(نامہ نگار) صدر بازار کمیٹی چھورکاہ حاجی فداحسین نے کہا ہے کہ شگر سے منتخب ممبر اسمبلی عمران ندیم کی اخباری بیان جس میں تعلیم اولین ترجیح پر حیرت ہوں۔ گذشتہ ادوار میں 10سال اقتدار کے مزہ لینے کے بعد اب 4سال ہونے کو ہے لیکن موصوف کا چھورکاہ میں تعلیم کی بہتری کیلئے اقدامات کہاں ہے۔انہوں نے کا کہ یونین کونسل چھورکاہ جو 10ہزار سے زائدد نفوس پر مشتمل ہے۔یہاں صرف ایک لڑکوں کیلئے صرف ایک ہائی سکول جبکہ لڑکیوں کیلئے کوئی بھی ہائی سکول موجود نہیں۔جبکہ انہی سکولوں میں اساتذہ اور کلاس رومزکی کمی کی وجہ سے تعلیمی صورتحال سب کے سامنے ہیں۔ انکا کہناتھا کہ یونین کونسل کی بیشتر آبادی غریب اور متوسط گھرانوں پر مشتمل ہے اور ان کے بچوں کی روشن مستقبل کا دارومدار سرکاری تعلیمی اداروں پر ہے۔ لیکن بدقسمتی سے شگر کے تیسرے بڑے یونین میں ابھی تک لڑکیوں کیلئے کوئی ہائی سکول موجود نہیں۔ جبکہ بوائز کیلئے صرف ایک ہی ہائی سکول موجود ہے۔ جوکہ علاقے کی نمائندے کا تعلیم سے دوستی اور ترجیح کا ثبوت ہے۔ منتخب نمائندے کو اپنے ووٹروں کی جانب سے چھورکاہ میں تعلیمی صورتحال کی خرابی کے حوالے سے بتانے کے باؤجود چھورکاہ میں تعلیمی صورتحال بہتر بنانے کیلئے کسی قسم کی اقدامات نہ اٹھانا لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں ممبر اسمبلی سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر تعلیم کی اور تعلیمی اداروں کی بہتری واقعی میں ان کا ایجنڈا ہے تو چھورکاہ کی تعلیم کی بہتری کیلئے اقدامات کریں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا