شگر(عابدشگری) گلگت بلتستان کی عوام کوئی غلام عوام نہیں جو اپنے مالک کی ہر حکم کی تعمیل کریں ہم ایک آزاد قوم ہے۔ صوبائی حکومت اور وفاقی حکوومت ہم پر اپنے ناجائز احکامات مسلط کرنے سے باز رہے۔ ہم ایسی کسی شاہی فرمان کو تسلیم نہیں کرینگے۔اگر ٹیکس لینے کا زیادہ ہی شوق ہے تو اس خطے کو آئینی حیثیت دیکر پاکستان کا پانچواں صوبہ تسلیم کریں۔شگر میں بھی عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کی کال پر تیسرے روز بھی ضلع شگر میں مکمل شٹرڈاؤں ہڑتال رہا۔ صبح سے تمام دکانیں ،بازار، ہوٹلز، مارکٹیں، اور کاروباری ،مراکز بند رہی۔ جبکہ حسینی چوک پر بازار کمیٹی شگر کی جانب سے دھرنا دیا گیا۔جہاں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سابق ممبر ضلع کونسل حاجی وزیر فداعلی،مجلس وحدت المسلمین کے رہنماء محمد ظہیر عباس،حاجی محمد علی،بازار کمیٹی شگر کے نائب صدر محمد بشارت نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان کومتنازعہ خطہ قرار دآئینی ھقوق سے محروم رکھنے کے باؤجود یہاں کے عوام سب سے زیادہ محب وطن ہیں۔ اور پاکستان کیلئے بے شمار قربانیاں دی ہے۔ پاکستان کی حفاظت کیلئے اس خطہ بے آئین کے جوان اپنے جان نچھاور کررہے ہیں۔ اس کے باؤجود ہمیں پاکستانی تسلیم کرنے سے حکومت ہچکچاہٹ کا اظہار کررہے ہیں۔جبکہ ٹیکس مسلط کرنے کے معاملے پر ہمیں پاکستانی شہریوں کی ٹیکس نافذ کرنے کیلئے پر تول رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کو متنازعہ خطہ ہونے کے باؤجود بے شمار ٹیکس باالواسطہ اور بلاواسطہ دے رہے ہیں۔ جوکہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ جبکہ موجودہ حکومت مزید دیگر ظالمانہ ٹیکس نافذکررہے ہیں۔گلگت بلتستان کی عوام کوئی غلام عوام نہیں جو اپنے مالک کی ہر حکم کی تعمیل کریں ہم ایک آزاد قوم ہے۔ صوبائی حکومت اور وفاقی حکوومت ہم پر اپنے ناجائز احکامات مسلط کرنے سے باز رہے۔ ہم ایسی کسی شاہی فرمان کو تسلیم نہیں کرینگے۔اگر ٹیکس لینے کا زیادہ ہی شوق ہے تو اس خطے کو آئینی حیثیت دیکر پاکستان کا پانچواں صوبہ تسلیم کریں۔ تو ہم ہر قسم کی ٹیکس دینے کو تیار ہے۔ورنہ اقوام متحدہ کی قانون کی رو سے اس خطے میں ٹیکس نافذ کرنے کا صوبائی اور وفاقی حکومت کو کوئی اختیار نہیں۔مظاہرین اور مقررین نے حکومت کی جانب سے اس ظالمانہ ٹیکس کی نوٹیفکیشن واپس لینے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا