گلگت(پریس ریلیز) گلگت بلتستان کے عدالت عالیہ اور دیگر سرکاری محکموں میں مقامی ملازمین کے خلاف جاری انتقامی کاروائیوں کے خلاف عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما مولانا سلطان رئیس اور دیگر کی جانب سے گلگت میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقامی ملازمین کے خلاف انتقامی کارروائی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اُنکا کہنا تھا تھا کہ متاثرہ ملازمین کے ایشو گلگت بلتستان کا مسلہہے کسی غیر مقامی ڈومیسائل ہولڈر کو بھرتی کرنا گلگت بلتستان کے شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تین بڑے ادارے جو گلگت بلتستان کے قوم کے ملکیت ہیں جن میں نیٹکو ، گلگت بلتستان کونسل اور سپریم اپیلٹ کورٹ جہاں گلگت بلتستان کے ہی ملازمین نے بھرتی ہونا ہے اور دیگر وفاقی اداروں میں پاور شیئرنگ کے تحت جتنے آفیسران وفاق سے آئینگے اتنے ہی گلگت بلتستان سے وفاق چلے جاینگے لیکن گلگت بلتستان میں اس کے بر عکس کام ہو رہا ہے وفاق سے چیف سیکریٹری سے لیکر ڈی سی ، اے سی اور ایس ایس پی ، ڈ ی ایس اپیز اور اے ایس پیز بھی وفاق سے آرہے ہیں اور جتنا کوٹہ ہے اس سے زیادہ گلگت بلتستان میں تعینات ہیں جو کہ گلگت بلتستان کے ملازمین کے ساتھ زیادتی ہے پڑھی لکھی ہمار ے قوم کے ساتھ ظلم ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے کہا کہ نیٹکو میں اس وقت ملازمین کو جو استحصال ہو رہا ہے اس کی مثال کہی نہیں ملتی ہے اس وقت نیٹکو میں ملازمین سے انتہائی درجے کا استحصال ہو رہا ہے اور جو بھی ایم ڈی آتا ہے وہ اقرباءپروری کے تحت اپنے افراد کو بھرتی کرتا ہے جس سے یہ قومی ادارہ اس وقت تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے اسی طرح ہمارے سامنے کشمیر کونسل مثال ہے جہاں سو فیصد ملازمین کشمیر کے ہی ہیں اس سے قبل کشمیر کونسل میں تیس فیصد ملازمین کو وفاق سے بھرتی کرنے کا کہا جس کو سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں لیکر گئے جس میں یہ فیصلہ آیا کہ تمام ملازمین کشمیر ہونگے اس فیصلے کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی لےکر گئے تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر کے فیصلے کو بر قرار رکھا اور اس وقت کشمیر کونسل میں تمام کشمیر کے مقامی ہیں ۔
اسی طرز سے گلگت بلتستان کونسل ہے جہاں پر صرف دو ملازمین کو ڈیپوٹیشن پر لیا گیا اور تین سال بعد ان کو واپس کر دیا گیا جہاں اب کوئی بھی گلگت بلتستان کا نہیں ہے اور سب دیگر صوبوں کے ہیں اور ہمارے بجٹ پہ ان کو نواز جا رہا ہے اس قسم کی زیادتیوں اور مظالم سے گلگت بلتستان کے عوام میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر طرز کا ہی ہمیں بھی ایک انصاف کا ادارہ دیا سپریم اپیلٹ کورٹ کی شکل میں دیاگیا جہاں پر یہی صورت حال ہے کہ گریڈ ایک کے بارہ تک ملازمین غیر مقامی ہیں اور گریڈ ایک سے گریڈ سولہ سے زائد ملازمین جو غیر ڈومسائل ہولڈر ہیں ان کو بھرتی کیا گیا اسی کے ساتھ گریڈ 17میںعثمان بشیر جنجوعہ کو بھی بھر تی کیا گیا اور اس کے ساتھ جو گریڈ 17میں مقامی ڈومسائل ہولڈر بھرتی ہوئے تھی وہ اب بھی اسی گریڈ میں ہے اور عثمان بشیر جنجوعہ گریڈ 20کو پہنچ گیا اور لوکل نان لوکل کا ایشو بنا کر گلگت بلتستان کے ڈومسائل ہولڈر ملازمین کو انتقامی کاروائی کرتے ہوئے چھ ملازمین کو فارغ کر دیا جو اس کے راستے میں رکاوٹ بن رہے تھے ان کے بے تکے تبادلے کروائے اور خود ادارے کا سربراہ بنے بیٹھا ہوا ہے اب پانی سر سے گذر گیا ہے اس لئے ہم نے اس ایشو کو لیکر گلگت بلتستان کا ایشو بنانا ہے کیونکہ لوکل اور نان لوکل کا راستہ ہی عثمان بشیر جنجوعہ نے دکھا یا ہے اور اب ہم نے عوام میں جانا ہے اور عوام کو سڑکوں پر لانا ہے اور ان قومی اداروں کو بچانا بھی ہے اور ملازمین کو ان کے حقوق بھی دلانے ہیں ۔
محکمہ انصاف سمیت دیگر محکموں میں مقامی ملازمین کی استحصالی،عوامی ایکشن کمیٹی کا بڑا مطالبہ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا