وائس چانسلر اور رجسٹرار کی غفلت ،بلتستان یونیورسٹی کے حوالے سے افسوناک خبر آگئی۔

0 0

سکردو(ٹی این این) ذرائع کے مطابق یونیورسٹی آف بلتستان سکردو کی تعمیراتی کام کیلئے ہائز ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جاری فنڈز ایک ارب چھتر کروڑ روہے جو پچھلے ایک سال سے نیشنل بنک آف پاکستان میں موجود یونیورسٹی کے اکاونٹ سے واپس جارہا ہے ۔ اس خبر کے بعد بلتستان یونیورسٹی کے انتظامیہ میں ہل چل مچ گئی ہے اور وائس چانسلر نعیم خان نے گلگت بلتستان کے تمام عوامی نمائندوں ،سکردو مرکز،فورس کمانڈر کے نام ایک خصوصی خط لکھا ہے جس میں اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کیلئےوفاقی حکومت کو مورد الزام ٹھرا کا 500 ملین فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے اسکا مطلب یہ ہوا کہ یونیورسٹی کی تعمیرات کیلئے جاری فنڈز باقاعدہ طور پر واپس ہونے جارہا ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ بنتا ہےکہ گزشتہ ایک سال سے بنک اکاونٹ میں فنڈ ز ہونے کے باوجود کام کا آغاز کیوں نہیں کیا ۔جو ملازمین بھرتی کرنے تھے وہ کیوں نہیں کیا ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کو 36 ریگولر اساتذہ کی ضرورت تھی جسے وائس چانسلر اخبارات میں اشتہار دیکر بھرتی کرسکتا تھالیکن اُنہوں نے نہیں کیا۔ اس وقت یونیورسٹی میں صرف 12 ریگولر اساتذہ خدمات انجام دے رہا ہے باقی تمام لیکچرر وزٹر کے طور پر خدمات انجام دے ہیں یو ں اس وقت یونیورسٹی ایک طرح سے برائے نام فنکشل ہے جو کہ انتہائی تشویش ناک صورت حال ہے۔ اسی طرح فنڈز کی موجودگی سے وائس چانسلر یونیورسٹی کیلئے مختص اراضی پر بانڈری کا کام شروع کرکے فنڈز کو روکا جاسکتا تھا لیکن بدقسمتی سے سیاسی اثررسوخ کی بنیاد پر تعین ہونے والے رجسٹرار نے ڈی سی شگر کے ساتھ ملکر کر ذاتی مفاد کیلئے بلتستان یونیورسٹی کیلئے مختص زمین کو ہی متنازعہ بنانے کی کوشش کی جسکا وائس چانسلر نے بروقت کوئی نوٹس نہیں لیا ۔ ذرائع کے مطابق آج وائس چانسلر کو جب اپنی ناکامی نظر آرہا ہے تو اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرنے کا اعتراف کرنے کے بجائے عذر پیش کیا جارہا ہے کہ ان تمام کاموں کے حوالے سے پیش رفت نہ ہونے کی اصل وجہ یونیورسٹی کے سینٹ کا اجلاس نہ ہونا ہے ۔ سینٹ کا اجلاس نہ ہونے کی اصل وجہ بھی یہی ہے کہ اُنہوں نے اپنی مرضی سے گلگت بلتستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیات شامل کرنے کے بجائے پنجاب کے ہائی پروفائل شخصیات کو اپنی مشہوریکیلئے سنیٹ کا رُکن بنایا جنہوں نے کبھی مسلے کی طرف توجہ ہی نہیں دیا اسی طرح افضل شگر ی کی کوتاہی بھی صاف نظر آرہا ہے کیونکہ انکو سینٹ کا ممبر اس لئے بنایا تھا تاکہ وہ جس طرح خود گلگت بلتستان کے حقوق کا علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اُس کے مطابق یونیورسٹی کے معاملات کی دیکھ بھال کریں لیکن اُنہوں نے بھی گزشتہ ایک سال میں کوئی مناسب کردار ادا نہیں کیا یوں آج بلتستان یونیورسٹی کی تعمیراتی کام مذاق بن کر رہ گیا اور اگر مختص رقم واپس ہوجاتے ہیں تو آئند ہ سال ہائز ایجوکیشن کی جانب سے اتنا خطیر فنڈز ملنا بھی مشکل ہوجائے گا۔ وزیر تعلیم گلگت بلتستان ابراہیم ثنائی کے حوالے سے بھی یہ کہا جارہا ہے کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ کی وجہ سے غیر سیاسی افراد کو باربار مداخلت کی دعوت پر ناراض ہے اور وہ بھی فلحال اس سلسلے میں کچھ کرنے کیلئے تیار نہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website