نگر ( اقبال راجوا) علماء کا کام یہ نہیں کہ وہ سیاست کریں بلکہ ان کا کام یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کو دین سکھائیں ،ہمیں جرم کا ارتکاب کرتے دیکھ کر کسی ابھی انسان کو قتل کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ،یہ اختیار حکم شرع یا عدالت کا ہے،جو اپنے وقت کے امام کی پہچان کے بغیر مرجائے وہ جہااللت کی موت مرتا ہے۔اغا راحت حسین الحسینی کا سکندر آباد نگر میں اجتماع سے خطاب۔ تفصیلات کے مطابق عصر ظہور اور ہماری زمہ داریوں کے عنوان سے مقامی جامع مسجد میں ایک سیمینار منعقد ہوئی سیمینار میں علاقے کے عمائدئین ،نوجوانوں ور بچوں نے ایک کثیر تعداد میں شرکت کی ۔گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع سے شعرائے کرام کے ساتھ ضلع نگر سے معروف منقبت و نعت خوانوں نے نہایت خوبسورت حمدو نعت اور منقبت پیش کئے۔ تقریب سے معروف عمائے کرام جن میں شیخ نیئر عباس،شیخ علامہ محمد عباس وزیری،شیخ محمد اقبال توسلی او ر دیگر عمالئے کرام نے اظہار خیال کیا۔ تقریب سے مرکزی کظاب کرتے ہوئے قائد ملت اسلامیہ گلگت بلتستان سید راحت حسین الحسینی نے کہا کہ امامھدی علیہ السلام کے ظہور کے دعویدار وں کو مسترد کرنے اور اور ان کی پہچان کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے پاس ایسے سوالات ہوں جن کا جواب وہ دعویدار نہ دے سکے۔اللہ تعالیٰ نے روئے زمین کو کبھی بھی اپنے خلیفے کے بغیر نہیں رکھا اور یہ واضح کردیا کہ زمین پر خلیفہ بنانے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کوحاصل ہے ۔ اس لئے ہر انسان کو حق پرست ہونا چاہیئے اورخود کو اچھائی کے لئے آمادہ رکھے۔جو شخص اپنی نفس اور نفسانی خواہشات کی نفی کرے گا وہ امام کو جلدی ہچان جائے گا۔نفس پرستی امام مھدی علیہ السلام کے پیروکاروں میں نہیں ہوتا۔دنیا کا ہر سچا انسان امام مھدی علیہ السلام کے انتظار میں ہے ان کا ماننا ہے کہ آخر امام ہی آئیں گے جودنیا سے ناانصافی اور ظلم و جبر کامکمل خاتمہ کریں گے اور پوری دنیا میں نظام عدل قائم کریں گے۔ہماری زمہداری ہے کہ ہم خود کو پروپیگنڈے سے بچا کر رکھیں۔اسلام میں پہلی جنگ کامیابی کے بعد پروپیگندے کے زریعے ناکامی میں بدل دیا گیا کیوں کہ مسلمانوں کے دھڑے ایک دوسرے کے ہی دشمن بن گئے تھے۔اللہ میں دین میں کوئی بھی جھگڑا پیدا نہیں کیا ہے جھگڑا فساد دین سے باہر ہے ۔نفس پرستی جھگڑے کا باعث بنتی ہے۔انہوں نے علمائے دین کے بارے میں بتایا کہ وہ سیاست کے بجائے سین کے احکامات بتائیں اور ان پر عملدرآمد کریں ،تقریب سے دیگر علامئے کرا م نے بھی خطاب کئے جس میں انہوں نے منجئی بشرئیت حضرت امام مھدی کی شان میں مقالے پیش کئے ۔ علامئے کرام کا کہنا تھا کہ آج امام علیہ السلام کے ظہور میں رکاوٹ در اصل ہماری امام کے لئے محبت و اخلاص سے تڑپ اور تلاش کی کمی ہے۔ تقریب کے آخر میں نماز باجماعت ادا کی گئی اور وطن عزیز پاکستان کی ترقی اور امن و امان کے لئے خصوصی دعائیں بھی کیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا