اسلام آباد(ٹی این این) گزشتہ روز وفاقی وزیر امورکشمیرو گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور نے گلگت بلتستان کو ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت حقوق دینے کاوعدہ کیا۔ اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے شہریوں کو وہ تمام بنیادی حقوق دیئے جائیں گے جو آئین پاکستان کے تحت کسی بھی صوبے کے شہریوں کو حاصل ہیں لیکن مسئلہ کشمیر اور اس حوالے سے بین الاقوامی قوانین کی وجہ سے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا ممکن نہیںاور نہ ہیگلگت بلتستان کو سینٹ اور قومی اسمبلی میں مل سکتی ہے۔ اُنہوں مزید کہا تھا کہ اس کے باوجود گلگت بلتستان کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی)، مشترکہ مفادات کونسل(سی سی آئی) اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)سمیت دیگرآئینی اداروں میں بطور مبصرو نان ووٹنگ ممبر نمائندگی دی جائے گی۔اُنہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے بھی گلگت بلتستان کو حقوق کی فراہمی سے متعلق کیس میں یہی فیصلہ دیا تھا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
اُن کے اس بیان کے بعد گلگت بلتستان میں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے علی امین گنڈا پور کے بیان کو اُن کے عہدے کے مطابق ایک احمقانہ بیان قرار دیا جارہا ہے۔ آج دن بھر سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک اور ٹیوٹر پر میڈیا صارفین کے درمیان یہی مسلہ زیر بحث ہے،سوشل میڈیا سروے کے مطابق ذیادہ تر سوشل میڈیا صارفین نے اُن کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ اور گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ دھوکہ قرار دیکر مطالبہ کیا جارہا ہے کہ گلگت بلتستان کو متازعہ حیثیت کے مطابق حقوق دیں اور دفتر خارجہ کا گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ کے حوالے سے بیان کے تناظر میں اس قانون خلاف ورزی کو فوری طور پر روکیں اور اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کے مطابق حقوق دیں۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ جب پارلیمنٹ میں نمائندگی نہیں مل رہا تو ایکٹ آف پارلمینٹ کا مطلب کیا ہے؟ حالانکہ گلگت بلتستان کے عوام اور یہاں کے عوامی نمائندوں کا ہمیشہ سے یہی مطالبہ رہا ہے کہ مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے گلگت بلتستان کو آذاد کشمیر کے ایکٹ کی طرح ایک خصوصی ایکٹ دیں جس میں اس خطے کی قومی شناخت واضح ہو۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے گلگت بلتستان کے حوالے سے مسلسل متضاد بیانات پر شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب اپنے پارٹی منشور میں داخلی خودمختاری کا وعدہ کرکے پہلے عبوری صوبے کا شوشا چھوڑا اب کسی بھی قسم کے صوبے یا گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے مطابق حقوق کی فراہمی سے انکارگلگت بلتستان میں آنے والے الیکشن میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے۔سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے تحریک انصاف کی پالیسی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن سے بھی مایوس کُن نظر آتا ہے۔
ایکٹ آف پارلیمنٹ کا مطلب کیا؟ علی امین گنڈا پورکے بیان پر نئی بحث چھیڑ گئی۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا