سکردو(تحریر نیوز رنیٹ ورک) حفیظ سرکار اور تبدیلی سرکار کے بھیج میں گلگت بلتستان کے عوام پس رہی ہے۔ایک پارٹی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور دوسری پارٹی تبدیلی کا نعرہ لگا کر عوام کو بے وقوف بنا رہی ہے۔دونوں پارٹی ایک سکے کے دو رخ ہے۔مہنگائی اور بےروزگاری کا نیا نام تبدیلی ہے۔وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے آپس کی پھینکا پھینکی میں پھر سے گندم سبسڈی کے خاتمے کی تیاریاں ہورہی ہے۔گندم سبسڈی کا خاتمہ اور تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ غریب عوام کے منہ سے لوالہ چھیننے کے مترادف ہے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلزپارٹی بلتستان ڈویژن کے نو منتخب صدر غلام شہزاد آغا نے کابینہ کی پہلی اجلاس کی صدارت سے خطاب کرتے ہوئے کی۔انھوں نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے قائد عوام شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے گندم سبسڈی دی تھی۔اب وفاقی حکومت پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح گلگت بلتستان سے بھی گندم سبسڈی کا خاتمہ چاہتی ہے۔پاکستان کے دیگر صوبے اور گلگت بلتستان میں فرق ہے کیونکہ گلگت بلتستان پاکستان کے آئینی شہری نہیں۔اور نہ ہی اس خطے میں بنیادی حقوق حاصل ہے۔اسی طرح وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں تمام ٹیکسز کو بھی دوبارہ لاگو کرنا چاہتی ہے جو ان کی بھول ہے۔اگر گندم سبسڈی کا خاتمہ اور غیرآئینی ٹیکسز کا نفاز عمل میں لایا گیا تو پورے جی بی میں پیپلز پارٹی دما دم مست قلندر کرے گی۔شہزاد آغا نے مزید کہا کہ اب بلتستان میں پیپلز پارٹی ڈرایئنگ روم سے نکل کر عوامی ایشوز کو لیکر سڑکوں پر عوام کے درمیان سیاست کریں گی۔اور بلتستان کے غریب عوام پر کئے جانے والے ظلم وزیادتی و ناانصافیوں اور حکومتی لوٹ کھسوٹ کے خلاف پیپلز پارٹی میدان جنگ سجائے گی۔انھوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کا نعرہ لگانے والے آج ناکام ہوگئے اس موسم میں بھی شہر میں بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے۔سردیوں کے موسم میں اللہ ہی حافظ ہے۔اگر صوبائی حکومت جلد لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہ کرے تو ہم عوامی طاقت کے زریعے انہیں مجبور کریں گے۔
حفیظ سرکار اور تبدیلی سرکار کےدرمیان گلگت بلتستان کے غریب عوام پس رہی ہے۔ رہنما پیپلزپارٹی
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا