اسلام آباد(تحریر نیوز نیٹ ورک)وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی گلگت بلتستان کے درمیان ملاقات منگل کے روز اسلام آباد میں ہونا طے پائی تھی جو کہ سعودی وفد کی پاکستان آمد ،وفاقی کابینہ کے اجلاس اور وزیر اعظم کے دورہ بلوچستان کی وجہ سے سے اسلام آباد کا تمام شیڈول منسوخ ہوا جس وجہ سے ملاقات بھی منسوخ ہوئی اب ملاقات کے لئے نئی تاریخ کا تعین ہوگا،اس ملاقات میں مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد گلگت بلتستان کے پی ایس ڈی پی منصوبوں کے بجٹ میں کٹوتی ،اہم منصوبوں کی منسوخی ،گندم سبسڈی پر خاتمے ،دیامر بھاشا ڈیم اور پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے آنے والی خبروں کوسامنے رکھتے ہوئے وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے اپنا موقف بیان کرنا تھا کہ پی ایس ڈی پی میں گلگت بلتستان کے اہم منصوبے ہیں ان کی منسوخی یا بجٹ کٹوتی سے گلگت بلتستان میں جاری تیز رفتار ترقی کا عمل متاثر ہوگا اور بالخصوص گندم سبسڈی کے خاتمے کے حوالے سے گلگت بلتستان بھر میں اضطراب پایا جاتا ہے اس حوالے سے وزیر اعلی گلگت بلتستان نے گلگت بلتستان کے عوام کے اہم مسائل اور موقف سامنے رکھنا تھا اسی ایجنڈے کے تحت منگل کے روز ملاقات طے تھی لیکن سعودی وفد کی پاکستان آمد ،وفاقی کابینہ کے اجلاس و دیگر مصروفیات کی وجہ سے منسوخ کی گئی ملاقات کی اگلی تاریخ کا تعین جلد ہوگا۔
سوشل میڈیا وزیر اعظم پاکستان کے اس فیصلے پر عوام کی جانب سے شدید تنقید کیا اجارہا ہے سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کا گلگت بلتستان کے حوالے سے مسلسل نظراندازی سمجھ سے بالاتر ہے حالانکہ گلگت بلتستان کو متنازعہ حیثیت کی وجہ سے دیگر صوبوں سے بڑھ کر توجہ دینا چاہئے تھا
وزیر اعظم کا وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے ملاقات منسوخ، عوام میں مایوسی پھیل گئی۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا