نگر ( اقبال راجوا) KFW بینک جرمنی کا افغانستان اور پاکستان کے لئے انچارج مائیکل گروبر ، پرنسپل پروجیکٹ منیجر ماجا بائوٹ اور محکمہء برقیات نگر کے ایگزیکٹیو انجینئیر زاہد حسین اور ایس ڈی او علی رہبر پر مشتمل ایک مشترکہ وفد کا عمائدین چھلت چھپروٹ اور چئیر مین ایل ایس او شینبر سے تفصیلی ملاقات ۔ ملاقات میں ضلع نگر کے سب سے بڑے تحصیل چھلت شینبر میں بجلی کی قلت کو دور کرنے اور قدرتی ماحول کو مخلوقات کے لئے محفوظ رکھنے کے لئے مشترکہ اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ KFW بینک جرمنی کے وفد نے عمائدین علاقہ سے کہا کہ جرمنی بینک علاقہ نگر تحصیل چھلت میں محکمہ برقیات نگر اور عوامی اشتراک سے AKRSP کی خصوصی معاونت سے علاقے میں بجلی کی کمی دور کرنے ،بلوں کی ادائیگی کے لئے بہترین طریقہ کار وضع کرنے او ر بنجر زمینوں کو سیراب کر کے عوام کے لئے کھیت باڑی کی اراضی میں اضافہ کرنے جیسے امور پر بات چیت کی گئی۔ جرمنی بینک کے وفد نے علاقے کے عمائدین او ر ایل ایس او شینبر کے خواتین ممبران سے بجلی کی ضرورت،مقدار اور طریقہ استعمال سے متعلق براہ راست سوالات کر کے مسائل اور مشکلات بھی دریافت کئے ۔ انہوں نے خواتین سے ایندھنی لکڑی کا استعمال کے لئے لانے اور استعمال میں مشکلات اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات جس سے قدرتی ماحول متاثر ہو رہا ہے بارے میں بھی گفتگو کی گئی۔ بینک کے وفد نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ سردیوں کے مہینے میں ایک فرد پی کم از کم 35سے 40 من تک اوسطاً ایندھنی لکڑی کے حصول لئے قدرتی جنگلات اور اپنے باغوں میں درختوں کو کاٹنے پر مجبور ہے ۔ جرمنی بینک کے وفد کو نگر پریس کلب کے نائب صدر اقبال حسین راجوا نے علاقے کی تاریخ اور علاقے میں عمومی عوامی مسائل ، بجلی کی مقدار ،کمی سی پیدا ہونے والے مسائل اور بجلی کاعوامی استعمال سے ماحول پر پڑنے والے برے اثرات سے متعلق حقائق پر تجزیہ پیش کیا ۔ نائب صدر پریس کلب اقبال حسین راجو نے وفد کو بتایا کہ ضلع نگر میں 1961 میں سب پہلا 50 کے وی کا پن بجلی گھر چھلت میں قائم کر کے عوام کو بجلی کا شعور دیا جو یہاں کی عوام کے لئے ایک خوش گوار تاریخ ہے ،جرمنی بینک وفد نے عمائدین اور نائب صدر پریس کلب کے بریفنگ پر نہایت اطمینان اور خوشی کا ظہار کیا ۔ انہوں نے خواتین کو چھلت اور چھپروٹ میں منصوبے کے لئے مختص اراضی میں 50فیصد حصہ مختص کرنے کے حوالے سے مجموعی فیصلے کو نہایت حوصلہ افزاء اور خوش کن قرار دیا ۔وفد باہمی گفتگو اور مذکورہ ملاقات کو کار آمد قرار دیا اور اگلی نشست کے لئے وادئی چھپروٹ چلے گئے ۔ وفد نے عمائدین چھپروٹ سے بھی اپنی گفتگو کی جس پر عمائدین چھپروٹ نے بھی وفد کے منصوبے کا مکمل حمایت کا اعادہ کی اور 18 ہزار کنال زمین میں قابل کاشت اراضی ،خواتین کو آزادی سے مختص شدہ 5ہزار کنال پر کام کرنے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے مکمل استعمال کرنے سمیت قدرتی ماحول میں پلنے والی دوسری مخلوقات کے لئے بہتر ماحول فراہم کرنے پر مکمل آمادگی پر نہایت خوشی کا اظہار کیا اور عمائدین کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ نائب صدر نگر پریس کلب اور چئیر میں ایل ایس اور شینبر شاہجہان نے جرمنی وفد کا خصوصی الفاظ میں شکریہ ادا کیا اور علمدار چوک چھلت سے الوداع کہا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا