چلاس(شہاب الدین غوری)چلاس شہر میں واقع ہزاروں سال پرانی تہذیب ڈیم کی ذد میں آئیگی ۔ابھی تک اس تہذیب کو محفوظ رکھنے کیلئے قابل ذکر اقدامات نہیں کئے گئے ہیں ۔قبل عیسوی کی اس تہذیب پر درجنوں جرمن طلباء نے تحقیقاتی مقالے بھی لکھے ہیں ۔
دیامر کے حدود میں پچاس ہزار سے زائد یہ نقوش ایک عہد اور تہذیب کی یاد دلاتے ہیں ۔بدقسمتی سے یہ نقوش پاکستان اور پھر پاکستان کے سب سے پسماندہ ترین ضلع دیامر میں ہونے کی وجہ سے حکومتی سطح پر اس تاریخی اور قیمتی اثاثے کو ابتدا سے اہمیت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے مقامی لوگ بھی اہمیت نہیں دیتے ہیں ۔
صوبائی حکومت کو چاہئے کہ وہ اس تہذیب کو محفوظ رکھنے کیلئے ،آثار قدیمہ میوزیم۔کے نام سے کسی سرکاری عمارت کو میوزیم کا درجہ دیکر ان کو محفوظ کریں جس سے ایک طرف سالانہ لاکھوں روپے حکومتی خزانے میں ریونیو جمع ہوگا اور دوسری طرف اس میوزیم کی وجہ سے چلاس شہر کا امیج بھی بہتر ہوگا ۔

More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا