اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی)گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی خان اور اُن کے خاندان کے درمیان مالیاتی تنازعے نے میر فیملی کو گلگت بلتستان کی سیاست میںبدنام کرکے رکھ دیا۔ باپ کی مدعی پر رکن اسمبلی بیٹے کو پہلے سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے اور بعد میں اسمبلی کی نشت سے نااہل قرار دینے کے بعد اب اگلی بھاری خود میر غضنفر کا لگتا ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ نون گلگت بلتستان کی قیادت چاہتی ہے کہ وفاق میں مسلم لیگ نون کی حکومت کے خاتمے سے پہلے کسی بھی طرح گورنر گلگت بلتستان کو تبدیل کرکے کسی غیرمعروف شخصیت کو گلگت بلتستان کا گورنر بنایا جائے تاکہ آنے والے دنوں میں مسلم لیگ نون نے جن حالات کا سامنا کرنا ہے اُس وقت حفیظ الرحمن کے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت استور سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شیر بہادر انجم جو گزشتہ دہائیوں سے لندن میں مقیم ہیں اور خود کو نواز شریف کا قریبی ساتھی کہتے ہیں، نے اس سلسلے میں خواہش کا اظہار کیا ہے جو حفیظ الرحمن کیلئے بھی قابل قبول ہے۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مسلم لیگ نون اس وقت اپنے سیاسی اور خاندانی مسائل میں برُی طرح پھنسا ہوا ہے ایسے میں گورنر گلگت بلتستان کی تبدیلی اُن کیلئے کوئی اہمیت کا حامل نہیں ۔ لیکن وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن کو خوش کرنے کیلئے ایسا ممکن بھی ہوسکتا ہے۔ یاد رہے شیر بہادر انجم پہلے بھی سوشل میڈیا اور مقامی اخبارات میں خود کو گورنر گلگت بلتستان کیلئے مضبوط ترین امیدوار کے طور پر پیش کرچُکے ہیں لیکن اُنکا خواب جو پہلے پورا نہیں ہوا تھا اس بار کی قسمت آزمائی کیلئے اپنے قریبی اور استور کے لوگوں کے ذریعے سوشل میڈیا پر افواہ پھیلایا جارہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس خبر میں کنتی صداقت ہے اور اس بار شیر بہادر انجم کے دل ارمان پورا ہوتے ہیں یا انہیں پہلے کی طرح شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بیٹے کے بعد باپ کا امتحان شروع، گورنر گلگت بلتستان کو ہٹانے کیلئے قوتیں متحرک۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا