سکردو( پ،ر) بلتستان پرائیوٹ سکول مالکان نے حکومتی احکامات ہوا میں اڑا دیئے وزیر اعظم کی جانب سے بجٹ کے دوران مقرر کردہ تنخواہ بھی دینے سے انکار ی ہیں پرائیوٹ سکولز مالکان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے جبکہ فیسوں میں اپنی مرضی سے اضافہ کرتے ہیں محکمہ تعلیم بھی ان سکول مالکان کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔حکومت کی جانب سے پرائیوٹ سکولریگولرٹی اتھارٹی بنانے کا فیصلہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ گزشتہ جون میں بجٹ کے دوران وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ مزدور کم از کم اجرت 14ہزار روپے ہوگی لیکن ان پڑھیلکھے اساتذہ کو مزدور کی اجرت بھی میسر نہیں ہے پرائیوٹ سکول مالکان ااس حد تک طاقت ور ہوگئے ہیں کہ اگر کوئی بچہ فیس نہ دے سکے تواس صورت میں سرٹیفکیٹ بھی حاصل نہیں کر سکتا ہے جبکہ دوسرا پرائیوٹ ادارہ تنظیم سے پوچھے بغیر داخلہ بھی نہیں دیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر ان معاملات کا نوٹس لے کر ریگولرٹی اتھارٹی بنائے اور تنخواہوں سمیت فیسوں کے حوالے سے اقدامات اٹھائے ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا