شگر(نامہ نگار)یوتھ پارلیمنٹرین اعجاز شگری نے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام خط میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان ک لوگوں کے ساتھ 70سالوں سے نا انصافی ہو رہی ہے جغرافیائی حدود میں ہوتے ہوے غیر آئینی خطّہ کہلانا گلگت بلتستان کے لوگوں کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے 28مئی 1999کو اسی سپریم کورٹ نے رولنگ دیا تھا کہ اس علاقے کو بنیادی حقوق فوری طور پر فراہم کیا جائے لیکن فیڈریشن نے تا حال اس پر عمل درا آمد نہیں کی ہیں جب حسن سدپارہ نے بلند ترین چوٹی سر کیا تو پاکستانی اور یاسمین بیگ نے دنیا کی بلند ترین چوٹی پر قدم رکھی تو پاکستانی لیکن 20لاکھ کے آبادی پر مشتمل اس علاقے کے لوگ آئینی حقوق ک لیے بات کرتے ہیں تو غیر آئینی خطّہ کہ کر نظر انداز کیا جاتا ہے ۔انہوںمعزز چیف جسٹس آف پاکستان میں پر زور مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے تا کہ ہم بھی اپنے آپکو ایک آئینی حیثیت ہونے پر فخر محسوس کریں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا