سان یان(آئی این پی ) چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ ایشیا کے مستقبل کا تعین ہمیں کرنا ہے، تمام ممالک غلبے کی ذہنیت ترک کردیں،چین نے ایشیا میں معاشی بحران کے خاتمے کے لیے گراں قدر کام کیا ،ہمارے سامنے اب بھی بے شمار مسائل اور بہت سی رکاوٹیں ہیں۔ چین کا مقصدصرف تجارتی منافع نہیں بلکہ درآمدات بڑھانے کا خواہاں ہے ،رواں سال چین میں کاروں کے درآمدی اور دیگر مصنوعات کے محصولات میں کمی کی جائے گی،علمی حقوق کی ضمانت چینی معیشت کی مسابقتی صلاحیت کو بلند کرنے کی ضمانت ہے ،چین اپنی عوام کی خوشحال زندگی کے لئے پہل کر کے درآمدات میں اضافہ کرے گا،رواں سال کی پہلی ششماہی میں بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے منفی فہرست میں ترمیم کا کام مکمل ہو گا ،چین نے ایشیاکامعاشی بحران ختم کرنے میں گراں قدرکام کیا، بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر کے سلسلے میں چین اپنا ہم خیال حلقہ تشکیل نہیں دے گا اور اپنے تصورات کو دوسروں پر مسلط نہیں کریگا،چین دنیاکی دوسری بڑی معیشت ہے، چین کاجی ڈی پی9.5 فیصد تک پہنچ گیاہے۔ چائنہ ریڈیو ا نٹرنیشنل کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے بافورم کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باؤو ایشیائی فورم کے قیام کے بعد ایشیا کی بنیاد پر دنیا کا سامنا کرتے ہوئے ایشیائی ممالک کے اتفاق رائے کے تحت مختلف فریقوں کے درمیان تعاون کے فروغ اور معیشت کی عالمگیریت نیز بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے قیام کے سلسلے میں بڑی تعداد میں قابل قدر تجاویز پیش کی گئیں۔ انہوں نے کہا گزشتہ چالیس برسوں میں چینی عوام نے اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے اپنی توجہ ملک کی تعمیر پر مرکوز رکھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں چین کی پیداواری قوت میں خوب اضافہ ہوا اور چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ، سر فہرست صنعتی ملک ،پہلے نمبر پر مالی تجارتی ملک اور سب سے زیادہ ذر مبادلہ رکھنے والا ملک بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چالیس برسوں میں چین کی اندرونی پیداواری مالیت کی شرح میں سالانہ نو اعشاریہ پانچ فیصد اضافہ ہوا جبکہ بیرونی تجارتی حجم کی شرح میں سالانہ چودہ اعشاریہ پانچ فیصد کا اضافہ رہا ۔ شی جن پنگ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے طیکردہ معیار کے مطابق اس دوران چین میں سترکروڑ سے زیادہ آبادی نے غربت سے چھٹکارا حاصل کیا جو مذکورہ عرصے میں پوری دنیاکی کل تعداد کا ستر فیصد بنتی ہے۔شی نے کہا کہ گزشتہ چالیس برسوں میں چین نے اپنی صورتحال کی بنیاد پر دنیا پر نظر رکھتے ہوئے خود مختارانہ طور پر اپنے پاوں پر کھڑ ے ہوتے ہوئے کھلے پن اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون اور مشترکہ ترقی کو بھی انتہائی اہمیت دی ہے ۔ علاوہ ازیں چین سوشلسٹ نظام کے ساتھ ساتھ سوشلسٹ منڈی کی معیشت کو اہمیت دیتے ہوئے چینی خصوصیات کے حامل سوشلسٹ نظام کی راہ پر کامیابی سے گامزن رہا ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین کی کامیابی نے دنیا کو بتایا ہے کہ جدت کی راہ صرف ایک نہیں بلکہ درست سمت کی جانب کوشش سے ہر راہ اپنے منزل مقصود تک پہنچ جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چالیس برسوں میں چین ایک بند ملک سے ہمہ گیر طور پر کھلا ملک بن چکا ہے اور بین الاقوامی رابط سازی سمیت دیگر متعلقہ امور میں ایک بڑے ذمہ دار ملک کی حیثیت سیاپنا کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے ۔چین میں ایک بڑی تعداد میں غیر ملکی سرمایہ کاری آئی ہے اور اب چینی سرمایہ کاری پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ ڈبلیو ٹی او میں شمولیت سے لے کر دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئٹیو پیش کرنے تک، چین نے ایشیا اور عالمی مالیاتی بحران کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے اور گزشتہ کئی برسوں سے عالمی اقتصادی ترقی میں چین کی خدمات کا تناسب تیس فیصد سے تجاوز کیے ہوئے ہے جس کی بدولت چین عالمی معیشت کے استحکام اور ترقی کو برقرار رکھنے کی ایک بڑی قوت بن گیا ہے۔کھلی پالیسی اور اصلاحات چین کا دوسرا انقلاب ہے۔یہ چینی عوام کی خواہشات، اور جدت اور ترقی و خوشحالی کے لئے پوری دنیا کے عوام کی امنگوں اور وقت کے تقاضے سے ہم آہنگ ہے۔چینی صدر مملکت شی جن پنگ نے کہا کہ امن اور ترقی دنیا کے تمام ممالک کے عوام کی دلی اور مشترکہ خواہش ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سرد جنگ اورمحاز آرائی کا پرانا تصور پیچھے رہ گیا ہے ۔ شی نے کہا کہ تعصب اور خود غرضی ایک بند گلی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کے درمیان معاشی اور سماجی ترقی کے لیے باہمی روابط میں روز بروز اضافے کے ساتھ ساتھ اثرات مرتب ہوتے رہے ۔ روابط اور مواصلات میں اضافہ اور ہم آہنگ ترقی دنیا کی مشترکہ خوشحالی اور ترقی کا لازمی انتخاب ہے ۔ صدر شی جن پنگ نے پرزور الفاظ میں کہا کہ اصلاحات اور تخلیق بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کو آگے بڑھانے کا بنیاد ی انجن ہیں ۔جو لوگ اصلاحات اور تخلیق کی مخالفت کرتے ہیں ، وہ پیچھے رہ جائیں گے اور تاریخ کے دریا میں ڈوب جائیں گے ۔چینی صدر نے اپنے خطاب میں تمام ممالک سے ایک دوسرے کے احترام ، مساویانہ سلوک کرنے ،خود غرضی، بالادستی ، فتح اور شکست کے تصورات کو ترک کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ معقول طریقے سے تنازعات کو حل کیا جائے، بات چیت کے ذریعے عالمی ادارے کے چارٹر اور بین لااقوامی قوانین و ضوابط کی حفاظت کی جائے ، متحد ہو کرجامع سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔مشترکہ مفادات کیلئے تعاون کیا جائے ، شراکت داری پر مبنی عالمی معیشت کو فروغ دیا جائے۔ صدر شی نے مزید کہا کہ آزاد تجارت و سرمایہ کار ی اور کثیرالطرفہ تجارتی نظام کو تقویت دی جائے، مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان باہمی مفاہمت کو مضبوط کیا جائے ،ماحول کی حفاظت کی جائے ، بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کی جائے اور پرامن ، محفوظ، خوشحال، کھلے اور خوبصورت ایشیا اور دنیا کے لئے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔انہوں نے کہا چین خواہ کتنے ہی مراحل تک ترقی کرے گا ، وہ کسی کے لئے خطر یکا باعث نہیں ہو گا اور نہ ہی موجودہ بین الاقوامی نظام میں کوئی خلل ڈالے گا ۔اس کے علاوہ اپنی طاقت کے دائرہ کار کے قیام کی کوشش نہیں کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ عالمی امن و ترقی کے لئے کوشش کرتاہے اور بین الاقوامی نظام کا تحفظ کرتا ہے ۔ انہوں نے پر زور الفاظ میں کہا کہ چین باہمی مفادات اور مشترکہ ترقی کی تزویراتی پالیسی پر قائم رہے گا ۔ اس کے ساتھ ساتھ چین اعلی معیار کی تجارت اور آزاد انہ سرمایہ کاری پر زور دے گا جبکہ چینی خصوصیات کی حامل آزاد تجارتی بندر گاہوں کی تعمیر بھی کی جائے گی ۔چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ رواں سال چینی حکومت چند علامتی اقدامات اختیار کریگی تاکہ چینی منڈی میں داخلے کے لیے زیادہ آسانی ہو۔ انہوں نے کہا ان اقدامات میں سروس خاص طور مالیاتی میدان میں بینکنگ، اسٹاک اور انشورنس اداروں میں غیرملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، چین میں غیرملکی مالیاتی اداروں کے قیام کے حوالے سے باپندیوں میں کمی، چین میں مزکورہ غیرملکی اداروں کے کاروبار کے دائرہ کار میں وسعت، مالیاتی منڈی میں بیرونی تعاون میں اضافہ، میینو فیکچرنگ میں کار سازی، ہوائی اور بحری جہازوں کی تیاری سمیت مختلف شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے تناسب میں اضافہ وغیرہ شامل ہے۔چینی صدر مملکت شی جن پھنگ نے کہا کہ سرمایہ کاری کا ماحول ہوا کی مانند ہے اور صاف و شفاف ہوا سے زیادہ سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری موصول ہو سکے گی ۔ انہوں نے کہا کہ چین بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی قوانین و ضوابط کے تحت علمی اثاثوں کے تحفظ کو مضبوط بنائے گا ۔ مسابقت کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ اجارہ داری کی مخالفت کی جائے گی ۔ شی جن پنگ نے کہا کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے منفی فہرست میں ترمیم کا کام مکمل ہو گا اور سرمایہ کاری کے لیے رسائی سے قبل مقامی باشدوں کے لیے مساوی سلوک اور منفی فہرست کے انتظامی ں ظام پر عمل درآمد کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ علمی حقوق کی حفاظت چینی معیشت کی مسابقتی صلاحیت کو بلند کرنے کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال چینی حکومت علمی حقوق کا نیا قومی بیورو قائم کرے گی اورمتعلقہ قوانین نافذ کرنے کو فوقیت دیگی جبکہ قانون کی خلاف ورزی پر سزا کو مزید سخت کریگی ۔ انہوں نے پر زور الفاظ میں کہاکہ چینی حکومت چینی اور غیرملکی صنعتی و کاروباری اداروں کے درمیان معمول کے تکنیکی تبادلوں ا ور تعاون کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ سی آر آئی کے مطابق شی کا کہنا تھا کہ بیک وقت چین کو امید ہے کہ غیرملکی حکومتیں بھی چین کے علمی حقوق کی حفاظت کے لئے زیادہ کوشش کریں گی۔شی جن پنگ نے کہا کہ چین صرف تجارتی منافع کو اپنا مقصد نہیں بناتا اور درآمدات کو بڑھانے کا خواہاں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال چین میں کاروں کے درآمدی محصولات میں بڑی حد تک کمی لائی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر مصنوعات کے محصولات میں بھی کمی کی جائے گی ۔ اس کے علاوہ عوام کی زیادہ مانگ والی خصوصی اور بہترین مصنوعات کی درآمد میں بھی اضافے کی کوشش کی جائے گی ،علاوہ ازیں عالمی تجارتی تنظیم کے تحت حکومت کی خریداری کے معاہدے میں شمولیت کے عمل کو تیز تر کیا جائے گا ۔ شی جن پنگ نے ترقی یافتہ ممالک سے چین کے ساتھ اعلی تیکنیکی مصنوعات کی برآمدات پر عائد مصنوعی پابندیوں کو اٹھانے کا مطالبہ بھِی کیا ۔چینی صدر شی جن پھنگ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پانچ سال پہلے انہوں نے دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئٹو پیش کیا۔ اس کے بعد سے اب تک چین نے اسی سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ دی بیلٹ اینڈ روڈ کے حوالے سے تعاون کے معاہدے طے کئے ہیں۔دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر کے سلسلے میں چین اپنا ہم خیال حلقہ تشکیل نہیں دے گا اور اپنے تصورات کو دوسروں پر مسلط نہیں کریگا۔تمام فریقوں کے ساتھ مشترکہ بات چیت، مشترکہ تعمیر اور مشترکہ خوشحالی کے اصول کی بنیاد پر دی بیلٹ اینڈ روڈ کے سلسلے میں تعاون کریں گے اور بین الاقوامی تعاون کا سب سے وسیع پلیٹ فارم قائم کریں گے جو کہ معیشت کی عالمگیریت کے رجحان کے مطابق ہے۔
چین کا سپُر پاور کی طرف پہلا قدم، ایشیا کے ٹائیگر کے طور پر خطےکی مستقبل کے تعین کرنے کیلئے اہم فریق ہونے کا اعلان۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا